بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

مہرکی تعیین نہ ہونے کی صورت میں رخصتی کےبعدطلاق دینے سےمہرکاحکم


سوال

میری شادی ایک لڑکےسے ہوئی، شادی کے بعد رخصتی اورخلوت صحیحہ بھی ہوئی، اوراب شوہرمجھے طلاق دینا چاہتا ہے۔ تواب مسئلہ مہرکا ہے مجھے بھی یہ معلوم نہیں کہ مہرکتنا تھا، اورشوہرکہتا ہے کہ ہمارے مابین مہر طے ہی نہیں ہوا تھا، صرف ایجاب و قبول ہو چکا تھا۔ تو طلاق کے بعد میں کتنے مہر کی حقدارہوں گی؟

جواب

واضح رہے کہ جب میاں، بیوی کےدرمیان رخصتی اورخلوت صحیحہ ہوجائےاوراس کے بعد طلاق واقع ہوجائےتواگرپہلےسےمہرمتعین ہواہوتوشوہرپرپورامہرواجب ہوجاتاہےاوراگرپہلےسےمہرمتعین نہ ہواہواورخلوت کےبعد طلاق ہوجائےتومہرمثل شوہر کےذمے واجب ہو جاتاہے۔ مہرمثل کامطلب یہ ہے کہ لڑکی کے باپ کے خاندان میں لڑکیوں کاجومہر طے ہواہواس کےبقدر مہر۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگررخصتی اورخلوت صحیحہ ہوچکی ہولیکن مہرپہلے سے طے نہیں ہواتھااوراب شوہرسائلہ کوطلاق دیناچاہتا ہےتوسائلہ کوپورامہرمثل دےگا۔

 

قال: "وإن تزوجها ولم يسم لها مهرا أو تزوجها على أن لا مهر لها فلها مهر مثلها إن دخل بها أو مات عنها''.(الهداية، ج:1، ص:199)

قال: (وإن لم يسم لها مهرا، أو شرط أن لا مهر لها - فلها مهر المثل بالدخول والموت، والمتعة بالطلاق قبل الدخول) ؛ لأن النكاح صح، فيجب العوض؛ لأنه عقد معاوضة. والمهر وجب حقا للشرع على ما بينا. والواجب الأصلي مهر المثل؛ لأنه أعدل، فيصار إليه عند عدم التسمية، بخلاف حالة التسمية؛ لأنهم رضوا به.( الاختيار لتعليل المختار، ج:3، ص:102)


فتویٰ نمبر : 7475/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں