بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

ایک شریک كا دوسرے کے لیے مال بیچنے کا ضامن بننا


سوال

دو آدمی کاروبار میں شریک ہے، ایک شریک نے کہا کہ دوکان میں جو مال پہنچے گا، وہ اگر دس دن کے اندر فروخت نہ ہوا تو اس کو میں مناسب قیمت پر خرید لوں گا، اور آپ کو منافع میں سے حصہ دوں گا، تو کیا یہ صورت جائز ہے یانہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ شرکت میں شریک کی حیثیت امین کی ہوتی ہے، اس ليے ايك شريك دوسرے كے ليے اس بات كا ضامن نہیں بن سکتا، کہ اگر شرکت میں نقصان ہو گیا تو میں اس کو ادا کروں گا،تاہم تعدی اور تقصیر کی صورت میں ضامن بن سکتا ہے، اور اگر شرکت میں نقصان کا ضامن نہ بنے، بلکہ صرف مشترک مال کو مارکیٹ ریٹ پر  خریدنے کا وعدہ کرے، اور پھر مستقل عقد کے ساتھ اس کو خریدے، تو یہ جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق ایک شریک کا دوسرے کے لیے نقصان کا ضامن بننا تو جائز نہیں، البتہ مشترک مال کو مارکیٹ ریٹ یا جس ریٹ پر اتفاق ہو اس پر  خریدنے کا وعدہ کرنا جائز ہے ۔

 

واشتراط الضمان على الأمين باطل، ألا ترى أن في المضاربة لا يجوز اشتراط شيء من الوضيعة على المضارب. (المبسوط للسرخسي، كتاب الشركة، ج:11، ص:157)

لأن رأس المال أمانة في يد الشريك والأمانة لا تضمن بالشرط كالوديعة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الشرکة، ج:4، ص:249)

يوضحه: أن مال الشركة وديعة في يد الشريك. (المحيط البرهاني، كتاب الشركة، ج:9، ص:154)


فتویٰ نمبر : 4134/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں