بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موسیقی پرمشتمل تقریب میں شرکت کرنا


سوال

موجودہ دورمیں کوئی بھی شادی ناچ گانے سے خالی نہیں ہوتی اوراسی طرح خلاف شرح امور پر مشتمل ہوتی ہےتوکیا اس طرح کی دعوت میں شرکت کرنا جائز ہےیانہیں؟

جواب

شادی بیاہ کےموقع پراگرکوئی مسلمان دعوت دےتواسےقبول کرنا چاہیےلیکن اس شرط پرکہ وہ دعوت غیرشرعی امورپرمشتمل نہ ہو،چنانچہ جہاں کہیں کوئی دعوت یامحفل غیرشرعی امورموسیقی،بےحیائی وغیرہ پرمشتمل ہواور پہلےسےاس کاعلم بھی ہو، تو ایسی تقریب میں یامحفل میں شرکت کرناجائزنہی

صورت مسئولہ کے مطابق جوشادی ناچ،گانےاورمیوزک جیسےخرافات پر مشتمل ہواور پہلےسے یقینی طور پراس بات کاعلم ہوکہ وہاں گانے،میوزک وغیرہ خرافات کاارتکاب کیاجارہاہےتوایسی شادی میں شرکت جائزنہیں،تاہم اگرپہلےسےعلم نہ ہواوروہاں پرجانےکےبعد معلوم ہوجائےتوعوام کےلیےکھانےکی گنجائش ہےجب کہ علما اورپیشوا لوگوں کے لیے ایسی صورت میں دعوت ولیمہ کی مجلس کوچھوڑکروہاں سےجاناچاہیےتاکہ لوگ اس کی ناراضگی سےعبرت حاصل کریں اوراہل دین کی بدنامی بھی نہ ہو۔

 

(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى:فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين.(فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدی (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لان فيه شين الدين، والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أولًا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا، لان حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص: 501)


فتویٰ نمبر : 6734/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں