بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

میڈیسن کمپنی میں ملازمت کرنا


سوال

ایک شخص میڈیسن کمپنی میں کام کرتا ہے جو ڈاکٹر حضرات سے ملاقاتیں کرتا ہےاور اپنی کمپنی کی میڈیسن کے بارے میں اسے انفارمیشن فراہم کرتا ہےکہ فلاں بیماری کی دوا ہمارے پاس موجود ہے۔جس کے بعد ڈاکٹر حضرات سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی کام ہو تو ہمیں بتادیں،جن کو کمپنیActivity  کا نام دیتی ہےاور ڈاکٹر جو مطالبہ کریں اسے بخوشی پورا کر دیا جاتا ہے،چاہے نقد رقم ہو یا سیر وتفریح کے لیے لے جانا ہو۔جس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر  ہماری کمپنی کی ادویات لکھیں اگرچہ مہنگے کیوں نہ ہو۔تو ان جیسی کمپنیوں میں بطور ملازمت کام کرنا کیساہے؟کمپنی کی طرف سے تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور اس کو جو ٹارگٹ ملا ہے اگر اس نے وہ پورا کر لیا تو اس کو تنخواہ کے علاوہ ایک بونس بھی ملتاہے تو کیا یہ بونس لینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  طبی نمائندگی کی ملازمت اس حد تک جائز ہے کہ آدمی ڈاکٹروں کے پاس جاکر انھیں کمپنی کی تیار کردہ ادویات سے متعارف کرائے اور دیانت داری کے ساتھ دواوٴں کی خصوصیات وفوائد بیان کرے، اس صورت میں دواساز کمپنیوں میں ملازمت کرنا جائز ہےاور اس صورت میں ٹارگٹ پورا ہونے پر جو بونس ملتا ہے وہ بھی جائز ہوگا لیکن اگر طبی نمائندہ دواوٴں کی غیر واقعی خصوصیات بیان کرتا ہے یاکمپنی کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے ڈاکٹر کو تحفے تحائف دیتا ہے جس کے نتیجے میں ڈاکٹر مریضوں کے خیرخواہی کی بجائے ان کو غیر ضروری ادویات یا غیر معیاری ادویات لکھ کر دیتا ہو تو اس صورت میں یہ ملازمت کرنا جائز نہ ہوگی اور اس صورت میں   ٹارگٹ پورا کرکے کمیشن حاصل کرنا بھی جائز نہیں۔

 

وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.( أحكام القرآن،سورۃ النساء، مطلب البيان من الله تعالى على وجهين،ج:2،ص:381)

عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلی الله عليه وسلم الرَّاشِيَ والمرتشي.( مسند الإمام أحمد، أول مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنهما،ج:6،ح:6533،ص:100)

والإعانة على المعصية معصية.( المبسوط للسرخسي،باب جزاء الصيد،الذي يرخص للمحرم من صيد البحر،ج:4،ص:96)


فتویٰ نمبر : 6741/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں