بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مملوکہ زمین میں خزانہ پانے کی صورت میں اس کی ملکیت
سوال
مملوکہ زمین میں خزانہ مدفونہ یا زمین کے ساتھ خلقی ہو تو کیا یہ مالکِ زمین کی ملکیت ہے یا جس نے بھی حاصل کیا ہواس کی بھی ہو سکتی ہے؟
جواب
مملوکہ زمین سے نکلنے والی اشیاء جو زمین کا خلقی حصہ ہوں تو اس بارے میں فقہ حنفی کا موقف یہ ہے کہ اگر زمین کا مالک متعین ہو تو ان معدنیات کا مالک بھی وہی زمین کا مالک سمجھا جائے گا، چاہے وہ خود نکالے یا کوئی اور شخص حاصل کرے۔ البتہ فقہ مالکی کے مطابق تمام معدنیات حکومت کی ملکیت ہوتی ہیں چاہےمملوکہ زمین سے نکلیں یا غیر مملوکہ زمین سے۔ چونکہ پاکستان کے قانون میں یہ طے ہے کہ تمام کانیں اور معدنیات حکومت کی ملکیت ہوں گی، اور شرعی اصول کے مطابق حاکمِ وقت کا فیصلہ اجتہادی مسائل میں واجب العمل ہوتا ہے، اس لیے پاکستان میں مملوکہ زمین سے نکلنے والی خلقی معدنیات شرعاً اور قانوناً حکومت کی ملکیت شمار ہوں گی۔
اور اگر زمین سے نکلنے والی شے دفینہ کی شکل میں تو اگر اس پر اسلامی علامات ہوں تو اس کا حکم "لقطہ" (گمشدہ چیز) کا ہے، جس کے اصل مالک کی تلاش ضروری ہےاور اصل مالک نہ ہونے کی صورت میں مستحقین زکواۃ کو دیاجائے گا۔ اور اگر اس پر کفر کی علامات ہوں یا وہ مشتبہ ہو، تو اس کا حکم غنیمت کا ہے، جس میں سے پانچواں حصہ (خمس) بیت المال یا بیت المال نہ ہونے کی صورت میں فقراء کو دینا لازم ہوگا، اور باقی چار حصے برآمد کرنے والے کے ہوں گے۔
أنّ المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها.(ردّالمحتار، كتاب الزّكاة، باب الرّكاز، ج:3، ص:259)
وحکمه: للإمام ولو بأرض معین إلا مملوكه لمصالح فله من المدونة قال مالک : وللإمام إقطاع المعادن لمن رأی ویأخذ منها الزکاة وکذلک ما ظهر من المعدن فی أرض العرب وأرض البربر فالإمام یلیها ویقطعها لمن رأی ویأخذ زکاتها وکذلک ما ظهر منها بأرض العنوۃ فهو للإمام. وأما ما ظهر منها فی أرض الصلح فهو لأهل الصلح لهم أن یمنعوا الناس أن یعملوا فیها. ابن رشد : مذهب المدونۃ أن المعادن لیست تبعا للأرض التی هي فیها مملوکۃ کانت أو غیر مملوکۃ إلا أن تکون فی أرض قوم صالحوا علیها فإن أسلموا رجع أمرها إلی الإمام. ووجهہ أن المعادن التی فی جوف الأرض أقدم من ملک المالکین لها فلم یحصل ذلک ملکا لهم بملک الأرض فصار ما فیها بمنزلۃ ما لم یوجف علیہ بخیل ولا رکاب.(التاج والإكليل لمختصر خليل،محمد بن يوسف بن أبي القاسم بن يوسف العبدري الغرناطي، أبو عبد الله المواق المالكي، كتاب الزكاة، زكاة المعادن وخمس الركاز، ج:3، ص:207)
والمعتمد أنها للإمام لأن المعادن قد یجدها شرار الناس فلو لم یکن حکمہ للإمام لأدی إلی الفتن والهرج. (حاشية الدسوقي على الشرح الكبير، محمد بن أحمد بن عرفة الدسوقي المالكي، كتاب الزكاة، زكاة المعدن، دار الفكر، ج:1، ص:487)
ولهذا إذا حکم الحاکم في فصل مجتهد فیہ ینفذ. ( تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب النكاح، ج:2، ص:116)
التصرّف على الرعية منوط بالمصلحة. (شرح المجلة، سليم رستم باز، المقالة الثانية في القواعد الفقهية، مادة:58، ج:1، ص:42)
أما الكنز فلا يخلو إما أن وجد في دار الإسلام، أو دار الحرب، وكل ذلك لا يخلو إما أن يكون في أرض مملوكة، أو في أرض غير مملوكة، ولا يخلو إما أن يكون به علامة الإسلام كالمصحف والدراهم المكتوب عليها لا إله إلا الله محمد رسول الله، أو غير ذلك من علامات الإسلام، أو علامات الجاهلية من الدراهم المنقوش عليها الصنم، أو الصليب ونحو ذلك، أو لا علامة به أصلا فإن وجد في دار الإسلام في أرض غير مملوكة كالجبال والمفاوز وغيرها فإن كان به علامة الإسلام فهو بمنزلة اللقطة يصنع به ما يصنع باللقطة يعرف ذلك في كتاب اللقطة؛ لأنه إذا كان به علامة الإسلام كان مال المسلمين ومال المسلمين لا يغنم إلا أنه مال لا يعرف مالكه فيكون بمنزلة اللقطة، وإن كان به علامة الجاهلية ففيه الخمس وأربعة أخماسه للواجد بلا خلاف كالمعدن على ما بين، وإن لم يكن به علامة الإسلام ولا علامة الجاهلية فقد قيل إن في زماننا يكون حكمه حكم اللقطة أيضا ولا يكون له حكم الغنيمة؛ لأن عهد الإسلام قد طال فالظاهر أنه لا يكون من مال الكفرة بل من مال المسلمين لم يعرف مالكه فيعطى له حكم اللقطة، وقيل حكمه حكم الغنيمة؛ لأن الكنوز غالبا بوضع الكفرة وإن كان به علامة الجاهلية يجب فيه الخمس؛ لما روي أنه «سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكنز فقال: فيه وفي الركاز الخمس» ، ولأنه في معنى الغنيمة؛ لأنه استولى عليه على طريق القهر وهو على حكم ملك الكفرة فكان غنيمة فيجب فيه الخمس وأربعة أخماسه للواجد؛ لأنه أخذه بقوة نفسه وسواء كان الواجد حرا، أو عبدا مسلما، أو ذميا كبيرا، أو صغيرا؛ لأن ما روينا من الحديث لا يفصل بين واجد وواجد ولأن هذا المال بمنزلة الغنيمة. ۔۔۔ وإن وجد في أرض مملوكة يجب فيه الخمس بلا خلاف لما روينا من الحديث ولأنه مال الكفرة استولى عليه على طريق القهر فيخمس. واختلف في الأربعة الأخماس قال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله: هي لصاحب الخطة إن كان حيا وإن كان ميتا فلورثته إن عرفوا، وإن كان لا يعرف صاحب الخطة ولا ورثته تكون لأقصى مالك للأرض، أو لورثته، وقال أبو يوسف: أربعة أخماسه للواجد. (بدائع الصنائع، كتاب الزكواة، فصل حكم المستخرج من الأرض، ج:2، ص:65)
49: ALL the mines and minerals shall and shall always be deemed to have been the property of government. (The land Revenue Act (West Pakistan Land Revenue Act (XVII of 1967) section 49
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں