بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شہرکے حدود سےنکلنے پراحکام سفر


سوال

اگرکوئی شخص اسلام ابادمیں (H-13)میں رہتاہواوروہ سفرشرعی کاارادہ کرے،تو اسلام ابادکی حدود سےنکل کرقصرکی نمازپڑھےگا؟یا(H-13) کی حدود سےنکل کرقصرکی نمازپڑھےگا؟

جواب

واضح رہےکہ کوئی شخص شرعاًمسافراس وقت شمارہوتاہےجب وہ اپنےشہرکےحدودسےنکل جائےاور(78)کلومیٹریااس سےزیادہ مسافت پرجانے کا قصدکیاہو۔

صورت مسئولہ میں اگرکوئی شخص اسلام اباد میں (H-13)میں رہتاہوتوجب وہ اسلام ابادکے حدودسےنکلےگاتب وہ مسافرشمارہوکرقصرنمازپڑھےگا، محض  (H-13) کےحدودسےنکلنےسےمسافرنہیں ہوگا ۔

 

(قوله من خرج من عمارة موضع إقامته) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها.قال في الإمداد: فيشترط مفارقتها ولو متفرقة…وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر وكذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح، …وأما الفناء وهو المكان المعد لمصالح البلد كركض الدواب ودفن الموتى وإلقاء التراب، فإن اتصل بالمصر اعتبر مجاوزته وإن انفصل بغلوة أو مزرعة فلا كما يأتي.(ردالمحتار علی الدرالمختار، باب صلاة المسافر، ج:2،ص:599/600)


فتویٰ نمبر : 11023/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں