بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی زمین کا تبادلہ كرنا


سوال

کیا مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کا کچھ حصہ  ذاتی استعمال میں لانا اور اس کے بدلے میں مسجد کے ساتھ متصل (شمال یا جنوب  کی جانب) اپنی ذاتی زمین مسجد کے لیے وقف کر دینا (یعنی زمین کا تبادلہ کرنا) شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو جگہ ایک دفعہ مسجد بن جائے پھر وہ  قیامت تک  مسجد کے حکم میں رہے گی اس کو دوسری زمین کے ساتھ تبدیل کرنا   جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں کسی شخص کا مسجد کی  زمین  کو ذاتی استعمال میں لانا اور اس کے عوض مسجد کو اپنی زمین دے کر اس  کو  مسجد کے لئے وقف کر دینا جائز نہیں۔

 

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا ۔ ( الفتاوى الهندية، ج:2، ص:490)

ولو خرب ما حول المسجدواستغني عنه يبقى مسجدا عند أبي يوسف لأنه إسقاط لملكه فلا يعود إلى ملكه كالإعتاق.(تبيين الحقائق، ج:3، ص:330)

قال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى۔ (البحرالرائق، ج:5، ص: 272)


فتویٰ نمبر : 6727/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں