بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ایڈوانس سیلری لون لینے پربینک کا کٹوتی کرنا


سوال

میری تنخواہ جے ایس بینک میں آتی ہے،میری تنخواہ 25400 روپے ہے، اب مجھے جے ایس بینک (JS Bank) کی طرف سے ایڈوانس سیلری لون (Advance Salary Loan) کی ایپلیکیشن پرلون (قرضہ) ملا۔ انہوں نے مجھے 25,400 روپے دیے، جس میں سے انہوں نے 650 روپے کاٹ لیے اور مجھے 24,750 روپے ملے۔ انہوں نے ساڑھے چھ سو روپے کاٹے ہیں۔ تو یہ کس قسم کا حساب کتاب ہے؟ یہ سود وغیرہ میں تو نہیں آتا؟

جواب

واضح رہے کہ عام طور پر روایتی بینک قرض رقم دینے پرکچھ  کٹوتی کرنے کو پراسیسنگ فیس یاسروس چارجزکا نام دیتے ہیں، جو وہ قرض کی فراہمی کے وقت ہی کل رقم سے منہا کرلیتے ہیں۔ نیزیہ بھی واضح رہے کہ جے ایس بینک (JS Bank) یا کسی بھی روایتی بینک کی طرف سے ملنے والا "ایڈوانس سیلری لون" اوراس پرکٹوتی اگربینک کے حقیقی اخراجات سے زائد ہو یا قرض پرفیصد کے حساب سے ہو،تویہ سود کے حکم میں داخل ہوکرحرام ہوجاتا ہے۔ یعنی اگریہ فیس قرض کی رقم کے ساتھ فیصد کے حساب سے بڑھتی یا گھٹتی ہو، یا یہ بینک کے حقیقی اخراجات سے زیادہ ہو، تو یہ سود ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جے ایس بینک (جو کہ ایک روایتی اورسود پر مبنی بینک ہے) کا یہ ایڈوانس سیلری لون اوراس پر لی  جانے والی یہ کٹوتی سود کے زمرے میں آتی ہے اس لئے یہ معاملہ شرعاً ناجائز اور حرام ہےکیونکہ عمومایہ قرض کے زیادہ ہونے کی صورت میں کٹوتی میں بھی زیادتی کرتا ہےجوکہ سود ہے۔

 

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.( رد المحتار مع الدر المختار ،ج:5، ص:166)


فتویٰ نمبر : 4132/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں