بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اسکریپ میں پرانےاوربوسیدہ اسلامی کتب بیچنا


سوال

ہمارا اسکریپ کا کاروبار ہے جس میں اللہ تعالی کے نام لکھے ہوئے کاغذات وغیرہ آتے ہیں اور اسلامی کتابیں بھی آتی ہیں تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے دفن کئے جائیں، جلا دئےجائیں یاپانی میں ڈال دئےجائیں وغیرہ؟ نیز ان اسلامی کتب کو آگے اسکریپ میں بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایسے کاغذات یاکتابیں جن پرقرآن پاک کی آیات یااحادیث مبارکہ یا اللہ تعالی اورانبیاء کرام کے نام موجود ہوں توان کی تعظیم، ادب واحترام لازم ہے، یہ اگربوسیدہ ہوجائیں اوراستعمال کے قابل نہ ہوں توان کودریاکےجاری پانی میں ڈالنا بھی جائز ہے لیکن بہتریہ ہے کہ ایسی کتابوں کےلئےقبرستان میں ایک قبرکھودی جائےاورقبرمیں لحد بنائی جائےاوراس میں دفن کیاجائے۔ نیزجہاں ان کی بےاحترامی کاخدشہ ہوتوان کتابوں کووہاں اسکریپ میں بیچناجائزنہیں۔

 

المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب.المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة.( الفتاوى الهندية،ج:5، ص:323)

الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء.

قال ابن عابدین تحت (قوله كما في الأنبياء) كذا في غالب النسخ وفي بعضها كما في الأشباه لكن عبارة المجتبى والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون.(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:6، ص:422)


فتویٰ نمبر : 6733/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں