بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی تعمیر میں حرام کمائی استعمال کرنا


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک نئی مسجد (مسجد نمرہ) تعمیر کی جا رہی ہے ۔ تعمیر کے سارے اخراجات پورے کرنے کے لیے اہلِ محلہ اور دیگر حضرات سے مالی تعاون لیا جا رہا تھا، تو ہمارے محلے کے ایک شخص نے اپنے ایک رشتہ دار سے مسجد کے لیے چندہ دلوانے کی سفارش کی۔ لیکن اس رشتہ دار کے بارے میں علاقے کے اکثر لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اس کی تمام آمدنی ناجائز اور حرام ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، اور اسی مال میں سے اس نے مسجد کی تعمیر کے لیے مالی تعاون کیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص جس کی آمدنی حرام ذرائع سے حاصل ہوتی ہو، تو کیا اس کی طرف سے مسجد کی تعمیر کے لئے دیا گیا چندہ استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے مسجد اللہ تعالیٰ کا مقدس اور پاکیزہ گھر ہے اس میں ثواب کی نیت سے رقم خرچ کی جاتی ہے اور ثواب کے حصول کے لیے مال کا حلال ہونا ضروری ہے، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ ہر قسم حرام کمائی مسجد میں استعمال کرنا ممنوع ہے اگر کسی نے دے دیا تو اس کو واپس کردیا جائے۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی مذکورہ شخص کی آمدن کے تمام ذرائع حرام مال کے ہوں، تو اس کے پیسوں کو مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

 

قال تاج الشریعۃ:اما لو انفق في ذالك مالا خبيثا و مالا سببه الخبيث و الطيب فيكره لان الله تعالى لا يقبل الا الطيب ، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله۔ (رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الصلوة، با ب ما يفسد الصلاة و يكره فيها ج:2 ،ص431)


فتویٰ نمبر : 6731/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں