بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قریب مسجد کے ہوتے ہوئے مدرسے میں باجماعت نماز ادا کرنا


سوال

ہمارے مدرسے کے ساتھ چند قدم میں مسجد ہے،لیکن طلباء کرام کو مسجد لے کے جانا اور پھر واپس لانا مشکل ہے، کیونکہ وہاں شور کرنے کا بھی اندیشہ ہے،  تو کیا ہم مدرسے میں مغرب ،عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا یہ جائز ہوگا یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت علی الکفایۃ ہے، اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا جس طرح مسجد میں جائز ہے، اسی طرح مسجد کے علاوہ گھر، مدرسے وغیرہ میں  بھی جائزہے، تاہم اگر مسجد میں  جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے، تو دو فضیلتیں حاصل ہوں گی ، اور اگر مسجد کے علاوہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے، تو جماعت کی فضیلت حاصل ہوگی ، لیکن مسجد میں پڑھنے کی فضیلت حاصل نہ ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں انتظامی ضرورت کے پیشِ نظر مدرسے کے قریب مسجد کے ہوتے ہوئے، مدرسے میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا جا ئز ہے۔

 

عن أبي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد. (سنن الدارقطني، رقم الحدیث: 890، ج2، ص:293)

ويستعمل لنفي الفضيلة لقوله صلى الله عليه وسلم: (لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد) ، والمراد نفي الفضيلة. (عمدة القاري، ج:6، ص:11)

وإن صلاها بالجماعة في البيت فقد حاز إحدى الفضيلتين وهي فضيلة الجماعة دون فضيلة الجماعة في المسجد.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:136)

وقال في المبسوط لو صلى إنسان في بيته لا يأثم فقد فعله ابن عمر وعروة وسالم والقاسم وإبراهيم ونافع فدل فعل هؤلاء أن الجماعة في المسجد سنة على سبيل الكفاية إذ لا يظن بابن عمر ومن تبعه ترك السنة اه. وإن صلاها بجماعة في بيته فالصحيح أنه نال إحدى الفضيلتين فإن الأداء في المسجد له فضيلة ليس للأداء في البيت ذلك وكذا الحكم في الفرائض. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:248)


فتویٰ نمبر : 11022/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں