بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

حج کمیٹی


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم ایک حج کمیٹی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کی شرائط درج ذیل ہیں ۔ان کا بغور جائزہ لینے کے بعد شرعی راہنمائی فرما دیں ،نیز جو شرائط شریعت سے متصادم ہیں ان کا بھی بتا دیں اور اگر کوئی کمی ہے تو اس کی اصلاح بھی فرما دیں ۔ آپ کی عین نوازش ہوگی۔ شرائط یہ ہیں! سفر حرمین حج کمیٹی: شرائط و ضوابط: ۱۔ بنیادی مالیاتی ڈھانچہ اور مدت • کمیٹی کی کل مدت: اس اسکیم کی کل مدت 36 ماہ (3 سال) ہوگی۔ • ماہانہ قسط: ہر ممبر پابندی کے ساتھ ماہانہ 35,000 روپے ادا کرےگا۔ • کل حاصل شدہ رقم: ہر ممبر کو اپنے حصے کی باری پر کل 1,260,000 روپے (بارہ لاکھ ساٹھ ہزار) دیے جائیں گے۔ • رقم کی شرعی حیثیت: یہ رقم کمیٹی انتظامیہ کے پاس "امانتِ معاہدہ" کے تحت جمع ہوگی، اور نظم و نسق کو اس میں بطور قرض حسنہ بوقتِ ضرورت جملہ تصرف (استعمال) کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔  2۔ قرعہ اندازی کا طریقہ کار اور جدول (Timeline) • سالانہ کوٹہ: ہر سال بذریعہ قرعہ اندازی 10 (کم و بیش) خوش نصیب افراد کا انتخاب کیا جائے گا۔ • پہلی قرعہ اندازی: پہلی قرعہ اندازی سال 2028ء (بمطابق 1449 ہجری) کے حج کے لیے، تقریباً جولائی 2027ء میں منعقد ہوگی۔ • وقت کا تعین: قرعہ اندازی ہر سال سرکاری حج اسکیم کی آخری تاریخ سے تقریباً ایک ماہ قبل کی جائے گی۔ • تین سالہ منصوبہ: پہلے اور دوسرے سال 10، 10 بندوں کی قرعہ اندازی ہوگی، جبکہ تیسرے سال بغیر کسی قرعہ اندازی کے تمام بقیہ ممبران کو حج پر بھیج دیا جائے گا۔ اس طرح 3 سال میں سب کا حج مکمل ہو جائے گا۔ • مشترکہ گروپ کا اصول: اگر کسی ایسے ممبر کا نام قرعہ اندازی میں نکلے جس نے اپنے ساتھ دو، تین یا زائد ممبران کو منسلک کیا ہوا ہے،  یعنی ایک خاندان کے لوگوں نے کمیٹی میں حصہ لیا ہو جسے شوہر ،بیوی ،ماں باپ نے حصہ لیا ہوتو ان تمام   افراد کو ایک ساتھ (اکٹھے) حج پر روانہ کیا جائے گا۔یاد رہے دس سے زیادہ افراد پہلے اور دوسرے سال نہیں بھیجے جائیں گے۔

3۔ حج اسکیم کا انتخاب اور ادائیگی کا طریقہ • رقم کی نقد فراہمی: قرعہ اندازی میں نام آنے والے ممبر کو ترجیحی بنیادوں پر 1,260,000 روپے کی رقم نقد دی جائے گی تاکہ وہ حالات کے مطابق سرکاری یا پرائیویٹ حج کا فیصلہ خود کر سکے۔ • سرکاری حج اسکیم: ممبر کا داخلہ پہلے سرکاری اسکیم میں کروایا جائے گا۔ اگر نام نکل آیا تو حکومت کی متعین کردہ رقم جمع کرا دی جائے گی۔ سرکاری اخراجات اگر کمیٹی کی رقم سے کم یا زیادہ ہوئے، تو فرق (کمی بیشی) کا لین دین ممبر کے ساتھ کر لیا جائے گا۔ یعنی رقم زیادہ ہوئی تو ممبر خود انتظام کرے گا ،اور اگر رقم کم ہوئی تو کمیٹی کی پوری رقم مالک کے حوالے کر دی جائے گی وہ جو چاہے کرے۔   پرائیویٹ حج اسکیم: اگر سرکاری قرعہ اندازی میں نام نہ نکلے، تو ممبر آزاد ہوگا کہ کسی بھی پرائیویٹ ایجنسی کے ذریعے چلا جائے۔   براہِ راست پرائیویٹ انتخاب: اگر کوئی ممبر شروع ہی سے سرکاری اسکیم کے بجائے پرائیویٹ جانا چاہے، تو وہ کمیٹی کو پہلے مطلع کرے گا۔ کمیٹی مقررہ رقم (1,260,000 روپے) اس کے منتخب کردہ پرائیویٹ گروپ کو براہِ راست ادا کر دے گی۔ (واضح رہے کہ کمیٹی صرف طے شدہ رقم یعنی 12 لاکھ 60 ہزار کی ہی ذمہ دار ہوگی)۔ • اقساط میں ادائیگی: اگر حکومت یا متعلقہ ادارہ حج کی رقم یکمشت کے بجائے اقساط میں مانگے، تو کمیٹی بھی اسی نظام کے تحت قسط وار ادائیگی کرے گی تاکہ رقم صرف حج کے اخراجات ہی پر صرف ہو۔ 

 4۔ سیکیورٹی اور ضمانت (Guarantees) • روانگی سے قبل ضمانت: قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے ممبر کے لیے حج پر جانے سے قبل درج ذیل سیکیورٹی فراہم کرنا لازم ہوگا: 1. دو عدد ضامن: ترجیحاً سرکاری ملازم ہوں۔ 2. قانونی معاہدہ: اسٹامپ پیپر پر باقاعدہ اقرار نامہ۔ 3. ضمانتی چیک: کمیٹی کی کل رقم کے برابر 2 عدد بینک چیک بطور ضمانت جمع کرانے ہوں گے، جو کمیٹی کی مدت (36 ماہ) ختم ہونے پر واپس کر دیے جائیں گے۔   5۔ اقساط میں تاخیر اور کمیٹی سے اخراج (Penalty) • دو اقساط کی تاخیر: جو ممبر مسلسل یا غیر مسلسل 2 قسطیں شارٹ (لیٹ) کرے گا، اس کا نام اگلی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ • تین اقساط کی تاخیر: 3 قسطیں شارٹ کرنے والے ممبر کو کمیٹی سے خارج کر دیا جائے گا، اور اس کی جمع شدہ رقم کمیٹی کے اختتام (36ویں مہینے) پر واپس کی جائے گی۔   6۔ دورانِ کمیٹی علیحدگی اختیار کرنے کا طریقہ (Exit Policy) چونکہ ممبران کی جمع کردہ رقم قرعہ اندازی کے خوش نصیب حجاج کے حج پر خرچ ہو چکی ہوتی ہے، اس لیے درمیان میں کمیٹی چھوڑنے والے کو فوری کیش نہیں مل سکتا۔ اس کے لیے دو صورتیں ہیں: • پہلی صورت: وہ ممبر انتظامیہ کی رضامندی سے اپنی جگہ کوئی نیا متبادل فرد پیش کرے، اس نئے فرد کو کمیٹی کا حصہ بنائے اور اپنی جمع شدہ رقم اس سے وصول کر کے الگ ہو جائے۔ • دوسری صورت: وہ ممبر کمیٹی کی متعین کردہ مدت (36 ماہ) مکمل ہونے کا انتظار کرے، جس کے بعد وہ اپنی جمع شدہ رقم کی واپسی کا مطالبہ اور وصولی کر سکتا ہے۔

7 ۔ وفات کی صورت میں وراثت کا اصول (Death Clause) • قرعہ اندازی سے قبل وفات: اگر کوئی ممبر نام نکلنے سے پہلے وفات پا جائے تو  یا تو اس کے شرعی ورثاء بقایا اقساط جاری رکھ کر نئے معاہدے کے تحت قرعہ اندازی میں شامل رہ سکتے ہیں۔ یا پھر ان کی جمع شدہ رقم کمیٹی کے اختتام (36ویں مہینے) پر شرعی ورثاء کو واپس کر دی جائے گی۔ • قرعہ اندازی کے بعد وفات: اگر نام نکلنے اور حج کی رقم وصولی کے بعد ممبر کا انتقال ہو جائے، تو بقیہ اقساط اس کے ترکے (چھوڑی ہوئی جائیداد) سے ادا کرنا ورثاء پر لازم (قرض) ہوگا۔ اس مقصد کے لیے حج پر جانے سے پہلے ایک وارث کو بطور ضامن نامزد کرنا ہوگا جو چیک بھی دے گا اور ذمہ داری بھی لے گا۔  8۔ مطلوبہ دستاویزات اور ریکارڈ (Documentation) • خونی رشتہ دار کی نامزدگی: فارم بھرتے وقت ہر ممبر اپنے ایک قریبی خونی رشتہ دار کو بطور "نامزد شخص" (Nominee) درج کرے گا تاکہ کسی بھی حادثے یا فوتگی کی صورت میں اس سے رابطہ اور لین دین کیا جا سکے۔ • کاغذی کارروائی: ممبر اور اس کے دونوں ضامنوں کے شناختی کارڈز (CNIC) کی تصدیق شدہ کاپیاں اور پاسپورٹ سائز تصاویر ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں گی۔ نوٹ : حج بدل کروانے والے حضرات کمیٹی کو پہلے آگاہ کریں گے تاکہ اسی لحاظ سے معاہدہ کیا جا سکے۔

جواب

واضح رہے کہ مروجہ کمیٹی (بی سی)باہمی قرض کی ایک صورت ہے،اس میں تمام شرکا  ایک خاص رقم  جمع کرکے کسی شریک کو بطور قرعہ اندازی ساری رقم دیتے ہیں ،کمیٹی کا  منتظم بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے،مروجہ کمیٹی کی یہ صورت  فی نفسہ جائزہے تاہم اگر یہ دوسرے مفاسد پر مشتمل ہو تو جائز نہ ہوگی  ۔

1۔صورت مسئولہ کے مطابق اگر کمیٹی کے تمام شرکا متعین رقم  جمع کرکے قرعہ اندازی کے ذریعےکسی شریک کو دیتے ہوں اور دوسرے مفاسد اس میں نہ ہوں تو یہ جائز ہے  ۔ اسی طرح کمیٹی  کے پاس جمع شدہ رقم   امانت ہے ،اس میں کمیٹی کے ممبران کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں۔البتہ اگر ممبران کی اجازت ہو تو پھر جائز ہے۔

2قرعہ اندازی کے لیے تاریخ مقرر کرنا ،پہلے اور دوسرے سال میں 10،10 شریکوں کوقرعہ کے ذریعے  منتخب کرنا ،اور تیسرے سال میں بغیر کسی قرعہ اندازی کے بقیہ شرکا کو حج کے لیے رقم دینا،اور اسی  طرح  اگر ایک خاندان کے کسی فرد کا قرعہ میں نام نکل آنا ،تو باقی خاندان والے اس کے ساتھ منسلک کرنا ،یہ سب جائز  ہے۔

3۔ ممبر کے لیے کمیٹی کی طرف سے حج کے لیے داخلہ کرنا یا ممبر کا خود کرنا چاہے پرائیویٹ ہو یا سرکاری ،اسی طرح  اگر کمیٹی  کم ہو تو ممبر کا خود کا انتظام کرنا ،اگر زیادہ ہو تو پوری کمیٹی ممبر کو حوالہ کرنا ، نیز اگر حج کے لیے قسط وار رقم ادا کرنا ضروری ہو،تو کمیٹی کا قسط وار رقم ادا کرنا ،یہ سب جائز ہے۔

4۔   ہر ممبر سے دو ضامن ، سٹامپ پیپر پر اقرار نامہ  اورضمانتی چیک لینا  جائز ہے لیکن ضمانتی چیک  صرف اصل رقم کی وصولی کے تحفظ کے لیے ہو اس سے کسی قسم کا ناجائز فائدہ نہ لیا جائے۔

    5۔  کمیٹی کے معاہدے کے مطابق اگر کوئی ممبر 2 قسط میں تاخیر کرے تو اسے اگلے قرعہ اندازی میں شامل نہ کرنا جائز ہے ۔اسی طرح اگر کوئی ممبرتین قسط میں تاخیر کرے تو اس کو کمیٹی کے معاہدے کے مطابق  نکالناجائز ہے، لیکن اس  کی جمع شدہ رقم کمیٹی کے اختتام  پر یعنی 36 ماہ بعد ادا کرنا جائز نہیں کیونکہ کمیٹی میں جمع شدہ رقم قرض ہوتی ہے ،اور مقرض (قرض دینے والا)  کو قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنے کا ہر وقت حق ہو تا ہے۔

6۔اگر درمیان کوئی ممبر نکل گیا ،تو ممبر اگر اپنی جگہ کوئی نیا ممبر دے اور  اپنی رقم ان سے وصول کرے تو یہ جائز نہیں،کیونکہ اس میں قرض کا بیچنا لازم آتا ہے اس آدمی پر جس کے ذمہ دین نہیں ہے ،اور یہ شرعا ناجائز ہے۔نیز نکلنے والے کو اپنی رقم کمیٹی کے اختتام سے پہلے وصول کرنے کاحق حاصل ہے ۔کمیٹی کے اختتام پر وصول کرنے کی شرط لگانا درست نہیں  ۔

   7۔ اگرکوئی ممبر نام نکل آنے سے پہلے وفات پائے، تو ورثا کو اس کی جمع شدہ رقم کمیٹی کے اختتام سے پہلے وصول کرنے کا حق حاصل ہے،کمیٹی کے اختتام پر وصول کرنے کی شرط لگانا درست نہیں ۔ اسی طرح اگر کوئی  نام نکلنے کے بعد وفات پائے  ۔اگر اس کا ترکہ ہو تو اس کے ترکہ سے اس کے ذمہ باقی اقساط کو وصول کیا جائے گا ،لیکن اگر مرحوم کا کوئی ترکہ نہ ہو کہ اس سے مرحوم کے باقی اقساط  وصول ہوں ، تو ایسی صورت میں ورثاء  ذاتی مال سے ادا کرنے کے شرعاً پابند نہیں۔تاہم اگر کوئی شخص (وارث یا غیر وارث) ضامن بنا ہو تو اس سے مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

 8۔ اگر ہر ممبر سے فارم بھرتے وقت ایک قریبی رشتہ دار کو بطور نامزد شخص درج کرے تاکہ کسی حادثہ کے وقت ان سے رابطہ کیا جائے،تو یہ جائز ہے۔اسی طرح اگر ہر ممبر سے اور اس کے دونوں ضامنوں سے شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں اور پاسپورٹ سائز تصاویر  ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

 

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ ٢٧٩﴾ [البقرة:278-279]

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٩٠﴾ [المائدة: 90]

لا بأس باستعمال القرعة في القسمة فقد استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك في قسمة الغنيمة مع نهيه صلوات الله عليه عن القمار  فدل أن استعماله ليس من القمار۔( المبسوط  للسرخسي،كتاب القسمة،ج:15،ص:4)

 ( قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔  ( رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحة، ج:6،ص: 403 )

   
 (ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) في سبع على ما في مدينات الأشباه بدلي صرف وسلم وثمن عند إقالة وبعدها وما أخذ به الشفيع ودين الميت، والسابع (القرض) فلا يلزم تأجيله.( الدرالمختار،کتاب المرابحة والتولية،ص:428)

  أن بيع الدين من غير من عليه الدين لا يجوز ۔( المبسوط  للسرخسي،كتاب الهبة،باب مايجوزمن الهبة ومالايجوز،ج:12،ص:56)


فتویٰ نمبر : 4156/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں