بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کتاب کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا اوراس کو فروخت کرنا


سوال

کیا شرعاً کسی کتاب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنا اور اسے فروخت کرنا جائز ہے، جبکہ اصل کتاب عربی یا کسی دوسری زبان میں ہو؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں اس بارے میں فتویٰ عنایت فرمائیں۔

 

جواب

معاصر فقہاء  کرام کے نزدیک حق طباعت اور حق اشاعت کو بھی مال تسلیم کیا جاتا ہے یعنی جو شخص اس چیز کی ایجاد و تصنیف میں سبقت کرتا ہے اس شخص کو اس کی  طباعت اور اشاعت کرنے کا پہلا حق حاصل  ہوتا  ہے۔ نیز آج کل حق طباعت اور حق اشاعت قانونی حق بھی بن چکا ہے جس کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوتی ہے، اس لیے اب یہ اعیان واموال کے درجہ میں ایک مال متقوم ہے جس کی باقاعدہ خرید و فروخت بھی شرعاً درست ہے ۔

لہذا کتاب کے مصنف یا ناشر کی اجازت کے بغیر اس کی کتاب کا ترجمہ کرنا اور پھر بازار میں اس کو فروخت کرنا شرعاً و قانوناً دونوں طرح جائز نہیں۔ البتہ اگر مالک کی جانب سے اس کی اجازت ہو یا نشر کرنے پر کوئی پابندی نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ عمل جائز ہے۔

 

عَنْ أَبِيهَا أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْتُهُ، فَقَالَ: مَنْ سَبَقَ إِلَى مَا لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ.(سنن أبي داود، كتاب الخراج والفيء والإمارة، ج:3، ص:142)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسِهِ.( سنن الدارقطني، كتاب البيوع، ج:3، ص:424)

 و بالجملة، فالراجح عندنا، واللہ سبحانہ و تعالی أعلم،أن حق الابتکار والتألیف حق معتبر شرعا، فلایجوز لأحد أن یتصرف فی هذا الحق بدون إذن من المبتکر أو المؤلف.(فقه البيوع، المبحث الثالث في احكام المبيع و الثمن، ج:1، ص:286)

وفی: اولاً : الاسم التجاري و العنوان التجاري والعلامة التجارية والتأليف والاختراع أو الابتكار هي حقوق خاصة لأصحابها أصبح لها في العرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتمول الناس لها وهذه الحقوق يعتد بها شرعاً فلا يجوز الاعتداء عليها. ثانياً : يجوز التصرف في الاسم التجاري أو العنوان التجاري أو العلامة التجارية ونقل أي منها بعوض مالي إذا انتفى الغرر والتدليس والغش باعتبار أن ذلك أصبح حقاً مالياً. ثالثاً : حقوق التأليف و الاختراع أو الابتكار مصونة شرعاً و لأصحابها حق التصرف فيها ولا يجوز الاعتداء عليها .(الفقہ الإسلامی وادلتہ ،المحبث السابع عائد الاستثمار، حقوق التألیف مصونۃ شرعاً لایجوز الاعتداء علیھا، ج: 7، ص: 5077)

Meaning of Copyright1)For the purposes of this Ordinance, “copyright” means the exclusive right, by virtue of, and subject to the provisions of, this Ordinance,__(a)in the case of a literary, dramatic or musical work, to do and authorize the doing of any of the following acts, namely (i)to reproduce the work in any material form;(ii)to publish the work;(iii)to perform the work in public;(iv)to produce, reproduce, perform or publish any translation of the work;(v)to use the mark in a cinematographic work or make a record in respect of the work.(The COPY RIGHT ORDINANCE, 1962, CHAPTER1: PRELIMANARY, page 11,12)


فتویٰ نمبر : 4142/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں