بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز پڑھنے سے انکار کرنا


سوال

علی نے زید سے کہا کہ جمعہ پڑھنے جاؤ۔ زید نے اشارے سے یا زبان سے انکار کیا اور کہا کہ میں نہیں جاؤں گا۔ کیا اس وجہ سے زید کافر ہو گیا؟

جواب

واضح رہے کہ نماز پڑھنے سے انکار کرنا گناہ کا کام ہے، لیکن مطلقاً نماز پڑھنے سے انکار کرنے والا کافر نہیں ہو جاتا۔ البتہ اگر کوئی شخص نماز کے وجوب اور فرضیت کا انکار کر دے تو ایسی صورت میں کافر ہو جائے گا۔

صورتِ مسئولہ میں زید کا یوں انکار کرنا بلاشبہ گناہ ہے، لیکن اس سے وہ کافر نہیں ہوا۔ اسے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔ تاہم علی کو چاہیے کہ حکمت کے ساتھ، موقع و محل دیکھتے ہوئے نصیحت کرے۔ نیکی کے کام کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اگر اندازہ ہو کہ سامنے والے کا ردِّ عمل مثبت نہیں ہوگا، تو حکمتاً اس وقت خاموش ہو جانا چاہیے، اور بعد میں مناسب موقع دیکھ کر سمجھا دینا چاہیے۔

 

وقول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه:أحدها: لا أصلي لأني صليت، والثاني:لا أصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك، والثالث:لا أصلي فسقا مجانة، فهذه الثلاثة ليست بكفر، والرابع: لا أصلي إذ ليس يجب علي الصلاة، ولم أؤمر بها يكفر، ولو أطلق وقال:لا أصلي لا يكفر لاحتمال هذه الوجوه. (الفتاوى الهندية، الباب التاسع في أحكام المرتدين، ج:2، ص:268)


فتویٰ نمبر : 6732/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں