بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تحقیر آمیز کلمات استعمال کرنا


سوال

میرے ساتھ مدرسہ میں ایک لڑکا پڑھتا تھا اس کا نام پرویز تھا جو ایک پاؤں سے معذور تھا۔ وہ مُجھے بہت تنگ کرتا تھا اورگالیاں بھی  دیتا تھا۔ اس پر میں نے بھی اسے تنگ کرنے کے لئے   شاید یہ کہا تھاکہ'' جب اللّٰہ کے یہاں پاؤں تقسیم ہو رہے تھے تو تُم لائن میں سب سے پیچھے کھڑے تھے'' یا شاید میں نے یہ کہا تھا ''جب اللّٰہ کے یہاں پاؤں تقسیم ہورہے تھے تو تُم لائن میں سب سے پیچھے کھڑے تھے اس لئے تمہیں آدھا پاؤں ملا'' ۔نعوذ باللہ۔ مُجھے الفاظ کی صحیح نوعیت یاد نہیں ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ کُفریہ الفاظ ہیں، اگر یہ کفریہ الفاظ ہیں تو کیا مُجھے توبہ کرنا ہوگی اور تجدیدِ ایمان کرنا ہوگا ۔ اور کیا توبہ کرتے وقت ان الفاظ کا دہرانا ضروری جو میں نے پرویز کو استعمال کئے  تھے یا  نہیں ؟وضاحت فرمائیں۔

جواب

اگر کسی مسلمان  سے ایسا کلام صادر ہو جائے جس میں کفر اور عدم کفر(اسلام سے خارج ہونے،اور نہ ہونے)دونوں  کا احتمال ہو، البتہ عدم کفر پر قرینہ موجود ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی تکفیر نہ کی جائے، گو کہ ایسے کلام سے اجتناب اور توبہ بہر حال لازم ہے۔

لہذا سائل نے اپنے دوست کے لیے تحقیر کے طورپر جو الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ''اللہ تعالی کے ساتھ پاؤں ختم ہوگئےتھے اس لیے تمہیں آدھا پاؤں ملا''اگر واقعی اس کا مقصد ان الفاظ سے اللہ تعالی کے لیےصفت عجز ثابت کرنا نہیں تھا بلکہ صرف دوست کو تنگ کرنا مقصود تھا تو اس سے کفر کا حکم نہیں لگے گا تاہم چونکہ ان کلمات سے بظاہر اللہ تعالی کی طرف عجز کی نسبت کا وہم پیدا ہوتا ہے اس لیے سائل پر سچے دل کے ساتھ ان الفاظ سے توبہ  کرنا لازم ہے اور آئندہ کے لیے ان الفاظ کے استعمال سے اجتناب ضروری ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ﴾ [البقرة: 104]

لايفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، ج:4، ص:258)

والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل أن القائل بمثل هذه المقالات إن كان أراد الشتم ولا يعتقده كافرا لا يكفر، وإن كان يعتقده كافرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر كذا في الذخيرة.( الفتاوى العالمكيرية، كتاب السير، ج:2، ص:278)


فتویٰ نمبر : 6736/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں