بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بزرگوں سے منقول وظائف کی شرعی حیثیت


سوال

بزرگوں سے جو  وظائف منقول ہیں ، جن کا ثبوت قرآن و احادیث میں نہ ہو، ان کے پڑھنے اور کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟، گنجینہ اسرار کتاب میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے لکھاہے:" رمضان شریف کا چاند دیکھنے یا ہونے کے  خبر ملنے پر تین مرتبہ سورۃ الفتح پڑھ لینے سے پورا سال رزق ملتا رہے گا۔"(صفحہ:30)اس وظیفے کی کیا حیثیت ہے، کیا اس کے کرنے کے بعد آدمی رزق کے لیے کوشش نہ کرے، صرف بیٹھا رہے، یا کیا مطلب ہے؟

جواب

جو وظیفہ احادیث ِمبارکہ میں منقول نہ ہو، بلکہ بزرگوں کے معمولات یامجربات میں سے ہو، تو اس پر اس حد تک عمل کرنا جائز ہے، کہ اسے لازم یا مستحب نہ سمجھا جائے، بشرط یہ کہ اس کے الفاظ بھی درست ہوں، یعنی ا للہ تعالی کے اسماے حسنیٰ، آیاتِ کریمہ یا صلاۃ وسلام وغیرہ پر مشتمل وظیفہ ہو۔ نیز یہ کہ مجربات کے پڑھنے سے کام ہو جانے کا صرف امکان ہوتا ہے، یہ لازم نہیں ہوتا کہ وہ کام خواہ مخواہ  ہوجائے۔

سوال میں مذکور"گنجینہ اسرار" کا وظیفہ بھی بزرگوں کے معمولات اور مجربات میں سے ہے، تفسیر قرطبی میں منقول ہے، کہ جو آدمی رمضان کی پہلی رات نفل میں سورہ فتح پڑھےگا، سارا سال  اللہ تعالی اس کی حفاظت کرے گا، چنانچہ یہ وظیفہ فی نفسہ جائز ہےلیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد آدمی رزق کمانا چھوڑدے ، بلکہ وہ کوشش جاری رکھے،اللہ تعالی اس کو رزق کمانے کے اسباب مہیا کریں گے۔

 

وقال المسعودي: بلغني أنه من قرأ سورة الفتح في أول ليلة من رمضان في صلاة التطوع حفظه الله ذلك العام. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي،ج:16، ص:260)

 وينبغي أن يدعو في صلاته بدعاء محفوظ، وأما في غير حالة الصلاة ينبغي أن يدعو بما يحضره. (الفتاوى الهندية،  كتاب الكراهية، ج:5، ص:367)

يجوز في الأذكار المطلقة الإتيان بما هو صحيح في نفسه مما يتضمن الثناء على الله تعالى ولا يستلزم نقصا بوجه من الوجوه، وإن لم تكن تلك الصيغة مأثورة عن النبي صلى الله عليه وسلم. وهذا في الذكر المطلق موضع اتفاق. (الموسوعة الفقهية الكويتية، ج:21، ص:238)

أما إن لم يكن في المناسبة المعينة ذكر وارد، فذهب بعض العلماء إلى أنه لا ينكر استعمال ذكر مما يحب الإنسان مما يليق بالمناسبة، أخذا من إطلاق الأمر بالذكر والدعاء في النصوص القرآنية والنبوية. دون أن يدعى لذلك الذكر أو الدعاء فضل أو خصوصية معينة.(الموسوعة الفقهية الكويتية،ج:21، ص:239)


فتویٰ نمبر : 6716/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں