بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بہتان کو پھیلانے سے عدم کفر


سوال

میں کسی شخص سے بات کر رہا تھا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے متعلق اور اس کے متعلق کے اس کو  انڈیا سے کیوں نکال دیا گیا یہ بات چل رہی تھی۔ کہ اسی دوران  میں جِس شخص سے بات کررہا تھا ۔ اس نے ذاکر نائیک کے بارے میں ایک بات کہی کہ ذاکر نائیک کے زُبان سے ایک بار یہ نِکل گیا تھا کی اگر نبوّت کا دروازہ بند نہیں ہوتا  تو (نعوذباللہ) وہ نبی ہوتا ، یہ بات جب  اس شخص نے کی ، تو میں نے اس کو صحیح سمجھتے ہوئے، دوسرے لوگوں کے سامنے بھی کی، حالانکہ ذاکر نائک اس بات سے بالکل بے خبر تھے، اس نے یہ کبھی نہیں کہا تھا، اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم نے جو سنی سنائی کفریہ بات آگے کی ہے تو یہ کفر تو نہیں ہوگا؟ اور اس سے تجدید ایمان لازم ہوگا یا نہیں؟ جبکہ میں نے اس سے مکمل توبہ کر لی ہے۔

جواب

اگر کسی آدمی کی طرف ایسی بات کی نسبت کی جائے، جو نہ اس کے اندر ہو اور نہ اس نے کہی ہو، تو اس کوبہتان کہتے ہیں، اس کے بارے میں قرآن و حدیث کے اندر وعیدیں آئی ہیں، اور اس کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے، اس لیے اس کے ارتکاب کی وجہ سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے، اس پر توبہ و استغفار لازم ہوجاتاہے، لیکن اس سے آدمی کافر نہیں ہوتا،نیز یہ کہ بغیر تحقیق کسی بات کو آگے پھیلانا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے جب مذکورہ الفاظ بغیر تحقیق کے دوسروں سے ذکر کیے ہیں، تو اس کی وجہ سے وہ گناہ  گارہوا، اس سے توبہ  واستغفار لازم ہے، لیکن اس کی وجہ سے نہ وہ کافر ہوا، اور نہ اس کو تجدید ایمان کی ضرورت ہے۔

 

الخامسة- قوله تعالى:" ولا يغتب بعضكم بعضا" نهى عز وجل عن الغيبة، وهي أن تذكر الرجل بما فيه، فإن ذكرته بما ليس فيه فهو البهتان. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، ج:16، ص:334)

عن أبي هريرة؛ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "أتدرون ما الغيبة؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال "ذكرك أخاك بما يكره" قيل: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال "إن كان فيه ما تقول، فقد اغتبته. وإن لم يكن فيه، فقد بهته". (صحيح مسلم، رقم الحدیث:2589، ج:4، ص:2001)

عن عبادة بن الصامت. قال:أخذ علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم كما أخذ على النساء: أن لا نشرك بالله شيئا، ولا نسرق، ولا نزني، ولا نقتل أولادنا، ولا يعضه بعضا بعضا. (فمن وفى منكم فأجره على الله. ومن أتى منكم حدا فأقيم عليه فهو كفارته. ومن ستره الله عليه فأمره إلى الله. إن شاء عذبه، وإن شاء غفر له). (صحيح مسلم، رقم الحدیث:1709، ج:3، ص:1333)

قلت: وقد جاء في رواية لمسلم: ولا نقتل أولادنا، ولا يعضه بعضنا بعضا، أي: لا يسخر. وقيل: لا يأتي ببهتان، يقال: عضهت الرجل رميته بالعضيهة؛ قال الجوهري: العضيهة البهيتة، وهو الإفك والبهتان، تقول يا للعضيهة. بكسر اللام، وهي استغاثة، وأصله من: عضهه عضها بالفتح. (عمدة القاري، ج:1، ص:160)


فتویٰ نمبر : 6724/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں