بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنا


سوال

دو آدمی مشترکہ طور پر پٹرول کا کاروبار کرتے ہیں کیا ان کے لیے پٹرول کی ذخیرہ اندوزی  کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی حاجت سے زائد ایسی چیز کوذخیرہ کرنا جس کا عام لوگوں کو ضرورت ہواوراس کو ذخیرہ کرنے سے وہ آسانی سے نہ ملے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو پریشانی لاحق  ہوتی  ہو یا وہ اتنا مہنگا ہوجائے کہ عام لوگوں کے لیے اس کا خریدنا مشکل ہوجائے تو ایسی ذخیرہ اندوزی درست نہیں، لیکن  اگر اس چیز کو ذخیرہ کرنے سے عام لوگوں کو تکلیف نہ ہو تو ایسا عمل جائز ہے۔

لہذا صور تِ مسئولہ کے مطابق اگر پٹرول کو اتنی مقدار میں ذخیرہ جائے کہ عام لوگوں کو مارکیٹ میں پٹرول نہ مل سکے یا اس ذخیرہ اندوزی کی وجہ سےغیر معمولی مہنگاہو جائے توایسی ذخیرہ اندوزی شرعاً درست نہ ہوگی ۔

 

(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"...(‌ولا ‌يكون ‌محتكرا ‌بحبس ‌غلة ‌أرضه)لأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة، ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذا له أن لا يبيع هداية قال والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة، ج:6، ص:398)

الاحتکار أن یدخر الإنسان أشیاء الحاجة في انتظار غلائها ویمسکها عن البیع.  ……….. وخص معظم الفقهاء النهي بالأقوات وعلف الدواب إن أضر ذلك بأهل البلدوروي عن محمد رحمه الله تعالیٰ أنه ممنوع في الثیاب أیضاوعن أبي یوسف رحمه الله تعالی أنه ممنوع في کل ما أضر بالعامة، وهو مذهب المالکیة.( فقه البیوع، المبحث التاسع، ج:2، ص998،996)


فتویٰ نمبر : 6719/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں