بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنے بارے میں جھوٹے دعوے كرنے والے كے سلسلے ميں حدیث كی تشريح


سوال

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا'' (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر61) اس حدیث میں یہ جو الفاظ ہیں جس شخص نے ايسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہیے ''ایسی بات ''سے کیا مراد ہے اپنے نسب کے بارے میں بات مراد ہے یا کوئی اور جیسے کوئی کہے میں عالم ہوںمگر وہ عالم نہ ہو یا کہے میں ڈاکٹر ہوں مگر وہ ڈاکٹر نہ ہو آگے جو لکھا ہے ''وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہیے'' اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب

حدیث مبارک میں جو الفاظ ہیں کہ''جس شخص نے ايسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہیے'' تو اس سے ہر وہ دعوی مراد ہے جس ميں مدعی جھوٹا ہو لہذا اس میں ہر قسم کے باطل دعوے شامل ہیں خواہ وہ مال کا دعوی ہو، علم کا دعوی ہو ،کسی علم کا دعوی ہو،نسب کا دعوی ہو ،کسی عہدے یا مرتبے کا دعوی ہو   یا اس کے علاوہ کوئی اور جھوٹا دعوی ہو۔اسی طرح ''وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہیے''یہ وعید ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے طریقے پر نہیں یا ہماری سنت پر نہیں اور اس گناہ کی وجہ سے  وہ اپنے آپ کو  جہنم کا مستحق بناتا ہےلیکن اگر الله تعالیٰ چاہے  تو اپنے فضل سے اس کو معاف بھی کر سکتا ہے۔

 

عن أبي ذر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:  ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى ما ليس له فليس منا، وليتبوأ مقعده من النار، ومن دعا رجلا بالكفر أو قال: عدو الله، وليس كذلك إلا حار عليه .(صحيح مسلم، كتاب لإيمان، رقم الحدیث :61، ج:1، ص:57)

ويؤخذ من رواية مسلم تحريم الدعوى بشيء ليس هو للمدعي فيدخل فيه الدعاوى الباطلة كلها مالا وعلما وتعلما ونسبا وحالا وصلاحا ونعمة وولاء وغير ذلك.( فتح الباري، کتاب الجھاد، ج:6، ص:541)

وقوله: " ليس مِنَّا "على ما تقدَّم، أى ليس مهتدياً بهدينا ولا مستناً بسنتنا. وقوله: " فليتبوأ مقعده من النار ": أى استحق ذلك بقوله، واستوجبه لمعصيته إلا أن يعفو عنه.( إكمال المعلم بفوائد مسلم، باب بيان حال الإيمان من رغب عن أبيه و هو يعلم، ج:1، ص:319،320)


فتویٰ نمبر : 6722/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں