بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تعليم كے ليے سفر شرعی سے کم مسافت پرکزن کے ساتھ جانا


سوال

اگر کوئی عورت تعلیم  کے لیے شرعی سفر سے کم کہیں جا نا چاہتی ہو تو اس کے ساتھ شوہر یا کوئی محرم موجود نہ ہو لیکن اس کے غیر محرم میں کزن ہو تو کیا یہ عورت اپنے کزن کے ساتھ  کہیں جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

جب کوئی  عورت کا   اپنے شہر یا علاقہ سے باہر سفر کا ارادہ کرے اور اڑتالیس میل (اٹھتر کلومیڑ) یا اس سے زیادہ مسافت  کا سفرہو تو   جب تک مردوں میں سے اپنا کوئی محرم  یا  شوہر ساتھ نہ  ہو اس وقت تک عورت کے لیےشرعاً  سفر کرنا  جائز نہیں ہے ،البتہ اگر مسافتِ سفر(اٹھترکلو میٹر) سے کم مقدار میں سفر کرنا ہو اور راستے یا منزل پر کسی قسم کے فتنے کا خوف نہ ہو، تو محرم کے بغیر بھی سفر کرنے کی گنجائش ہے۔

لہذاصورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی عورت تعلیم حاصل کرنے کے لیے شرعی مسافت سے کم فاصلے پر جانا چاہتی ہو، تو فتنہ و فساد کا  خوف نہ ہونے کی صورت میں  اکیلےیا دیگر خواتین کے ساتھ جا سکتی ہے۔تاہم کزن کے ساتھ جانے میں اگر خلوت کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

الخلوة بالاجنبية حرام.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس،ج:6، ص:368)

لأن المحرم يشترط للسفر، وما دون ثلاثة أيام ليس بسفر فلا يشترط فيه المحرم كما لا يشترط للخروج من محلة إلى محلة.(بدائع الصنائع،كتاب الحج،فصل في شرائط  فرضيته،ج:3،ص:56)


فتویٰ نمبر : 6726/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں