بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مذہب غیر پر عمل کرنا


سوال

اگرایک عالم شخص جس کا تعلق فقہ حنفی سے ہو اور وہ  رضاعت کے معاملے میں غور و فکر کے بعد شافعی مذہب کے دلائل سے مطمئن ہو جائےتو کیا وہ شخص اس مسئلہ میں شافعی مسلک پر عمل کر سکتا ہے؟

جواب

اصولی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حنفی ہے تو اس کے لیے مذہبِ حنفی پر عمل کرنا لازم ہے۔محض ذاتی ضرورت کا بہانہ بناکرکسی مسئلے میں دوسرے مذہب کو اختیار کرنا حرام اور ناجائز ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی عالمِ دین رضاعت کے مسئلے میں فقہِ حنفی کے بجائے فقہِ شافعی پر عمل کرناچا ہے تو اگروہ عالم پختہ علمی استعداد کا حامل ہو،نصوص کا معنی اور محمل سمجھتاہو، تلفیق(دو مذاہب کے ایسے اقوال کو جمع کرنا جس سے ایک ایسی نئی صورت بن جائے جو کسی کے نزدیک جائز نہ ہو) سے بچنے والا ہو اور خواہشِ نفس کی پیروی کرنے والا نہ ہوتو اس کے لیے گنجائش ہوگی۔

 

وبه علم أن المضطر له العمل بذلك لنفسه كما قلنا وأن المفتي له الإفتاء به للمضطر. فما مر من أنه ليس له العمل بالضعيف ولا الإفتاء به محمول على غير موضع الضرورة، كما علمته من مجموع ما قررناه. والله تعالى أعلم... قال في خزانة الروايات: العالم الذي يعرف معنى النصوص والأخبار، وهو من أهل الدراية يجوز له أن يعمل عليها وإن كان مخالفا لمذهبه انتهى.( شرح عقود رسم المفتی،ص:93)

وقطع الكيا الهراسي بِأَنَّهُ يجب على الْعَاميّ أَن يلْزم مذهبا معينا وَاخْتَارَ فِي جمع الْجَوَامِع أَنه يجب ذَلِك وَلَا يَفْعَله لمُجَرّد التشهي بل يخْتَار مذهبا يقلده فِي كل شَيْء يَعْتَقِدهُ أرجح أَو مُسَاوِيا لغيره لَا مرجوحا.( عقد الجيد في أحكام الاجتهاد والتقليد،ص:31)


فتویٰ نمبر : 6725/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں