بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

میت کے گھر والوں کو تین دن کھانا کھلانے کے لیے کمیٹی بنانا


سوال

اگر کسی محلےمیں اس طرح کمیٹی قائم ہو، کہ جب کسی کے گھر فوتگی ہو جائے، تو محلے والے دو دو، تین تین ہزار روپے اکٹھا کرتے ہیں اس میں بعض لوگ بغیر رضامندی کے بھی شامل ہوتے ہیں، اور پھر اس کے ذریعے تین دن تک  میت کے گھر والوں کے لیے، گاؤں والوں کے لیےاور باہر سے آنے والوں مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں، اور جو اس میں رقم نہ دے، اور اس کمیٹی میں شرکت نہ کرے، تو اس کے گھر فوتگی ہوجانے کی صورت میں اس کے لیے کھانے کا انتظام نہیں کیا جائے گا، کیا اس طرح کمیٹی بنانا جائز ہےیا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو اس کی جائز صورت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد اور خیر خواہی کے لیے ٹرسٹ یا کمیٹی بنانا فی نفسہ مستحسن عمل ہے، لیکن اس  کے لیے ضروری ہے کہ اس میں فنڈشریعت کے مطابق جمع کیا جائے، اور پھر جائز طریقے سے خرچ کیا جائے، مثلا یہ کہ اس میں کسی کو مجبور کرکے شامل نہ کیا جائے اور نہ کسی سے اس کی رضامندی کے بغیر رقم لی جائے، اور جمع شدہ رقم کو بدعات ورسومات میں خرچ نہ کیا جائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ  کمیٹی  میں اگر لوگوں سے ان کی رضامندی کے بغیر رقم اکٹھا کی جاتی ہو،تو طیب نفس نہ ہونے کی وجہ سے یہ جائز نہ ہوگا، اس کی جائز صورت یہ  ہو سکتی ہے کہ کسی پر اس رقم کو لازم نہ کیا جائے، بلکہ ہر ایک اپنی وسعت کے مطابق جتنی رقم دینا چاہے، دے ، پھرتعزیت کے دنوں میں اس کے ذریعے میت کے گھر والوں اور  دور سے آنے والوں مہمانوں کی ضیافت کی جائے، گاؤں والوں کی ضیافت  غمی کے دنوں میں درست نہیں ۔

 

عن جعفر بن خالد، عن أبيه عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌اصنعوا ‌لآل ‌جعفر ‌طعاما، فقد أتاهم ما يشغلهم أو أمر يشغلهم.(سنن ابن ماجه،ج: 2،ص: 537)

والحديث أصل في المشاركات عند الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى.(مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج:5، ص:480(

عن أنس بن مالك ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه). سنن الدارقطني كتاب البيوع، ج:3 ص:424)


فتویٰ نمبر : 4124/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں