بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ميراث میں ملنے والی رقم سے مورِث کا قرض کاٹنا


سوال

عائشہ اور فاطمہ آپس میں بہنیں ہیں، عائشہ نے فاطمہ کو 4 لاکھ روپے قرض دیے تھے، اب عائشہ مر گئی ہے، اور اس کے والدین اور اولاد پہلے ہی وفات پا چکے ہیں، اس لیے فاطمہ کو عائشہ کی میراث میں حصہ ملے گا اور تمام ورثاء کے حصص بھی متعین ہوچکے ہیں کہ ہر وارث کو  اتنا اتنا حصہ ملے گا۔ اب فاطمہ دیگر ورثا سے کہتی ہے کہ میرا میراث میں جتنا حصہ بنتا ہے اس میں سے وہ 4 لاکھ روپے اس قرض کی عوض لے لو اور میرے حصے کا جو بقیہ بنتا ہے وہ مجھے ادا کردو۔ کیا اس طرح کرنے سے فاطمہ کا قرض ادا ہوجائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قرض ایک ثابت شدہ حق ہے، جو قرض لیتے ہی قرض لینے والے کے ذمے لازم ہوجاتا ہے۔ اگر قرض دینے والے کا انتقال ہوجائے تو اس کا یہ حق ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ترکہ کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کے شرعی ورثاء کو منتقل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قرض لینے والے پر لازم ہے کہ وہ قرض میت کے ورثاء کو ادا کرے، پھر ورثاء اسے اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کریں۔

صورت مسئولہ میں عائشہ کے انتقال کے بعد فاطمہ کے ذمہ چار لاکھ روپے کا قرض واجب الادا ہے، البتہ اگر فاطمہ بھی عائشہ کی شرعی وارث ہو تو اگر اس کے حصۂ میراث میں چار لاکھ سے زیادہ رقم بنتی ہو چنانچہ وہ دیگر ورثاء سے کہے کہ میرے حصۂ میراث میں سے چار لاکھ روپے میرے  قرض کے بدلے شمار کر کے میرے حصے کا جو بقیہ بنتا ہے وہ مجھے ادا کردیں، تو یہ جائز ہے اس سے اس کا قرض ادا ہو جائے گا۔

 

كما أن أعيان المتو في المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة شخص مشتركا بينهم على حسب حصصهم.(شرح المجلة لخالد الأتاسى، الفصل  الثالث في بيان الديون المشتركة، المادة:1092)

وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية. (بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج:7، ص:396)

يؤدى الدين بطريق المقاصة وذلك أن المال الذي يأخذه الدائن مقابل مطلوبه يكون مضمونا عليه حيث إنه قبضه لنفسه على وجه التملك وبما أن للدائن في ذمة المدين مطلوبا بمثل ذلك المال . (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:1112، ج:3، ص:86)


فتویٰ نمبر : 3840/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں