بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

وصولی کے بعد جعلی نوٹ کا دعوی کرنا


سوال

مقروض نے قرض خواہ کو رقم ادا کر دی۔ بعد میں قرض خواہ نے دعویٰ کیا کہ ادا کی گئی رقم میں ایک پانچ ہزار روپے کا نوٹ جعلی (نقلی) نکلا۔ اس صورت میں گواہی کس کے ذمے ہوگی، اور قسم کس کے ذمے ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں دعویٰ کرنے والے کو اپنے دعویٰ پر دو گواہ پیش کرنا لازم اور ضروری ہے۔ اگر مدعی (دعویٰ کرنے والا) اپنے دعویٰ پر گواہ پیش کرنے سے قاصر ہو تو مدعیٰ علیہ (جس پر دعویٰ کیا گیا ہو) سے قسم لی جائے گی۔ چنانچہ اگر وہ قسم کھا لے تو اس کی بات معتبر ہوگی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق قرض خواہ اس بات کا مدعی ہےکہ قرضدار نے مجھے جعلی نوٹ دیا ہے اب اس پرلازم ہے کہ اپنے دعویٰ پر دو معتبر گواہ پیش کرے۔ اگر اس کے پاس اس بات پر گواہ نہ ہو تو مقروض چونکہ مدعیٰ علیہ ہے، اس لیے اس پر قسم ہوگی وہ قسم کھا کر یہ کہےگا کہ میں نے کوئی ایک نوٹ بھی جعلی نہیں دیا ہے۔

 

و أما حجة المدعي و المدعى عليه، فالبينة حجة المدعي، و اليمين حجة المدعى عليه؛ لقوله عليه السلام: البنية على المدعي و اليمين على المدعى عليه جعل عليه السلام البينة حجة المدعي، و اليمين حجة المدعى عليه. (بدائع الصنائع،كتاب الدعوى،ج:8،ص:418،مكتبة: دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4140/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں