بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسےمیں مالی بے احتیاطی اور اس میں تدریس کرنا


سوال

اگرایک مہتمم ایسا ہو کہ مدرسے کے پیسوں میں احتیاط سے کام نہ لیتا ہو ۔مدرسے کے مد میں آئے ہوئے پیسوں کو اکثر اپنے جیب میں رکھتا ہو۔اور جب مدرسہ کے کسی کام کے لئے پیسوں کی ضرورت ہو ، توبغیر کسی حساب و کتاب کےاپنی جیب سے نکال کر دیتا ہو۔نیز مدرسہ میں بھی آمد و خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو ۔تو اس مہتمم کے ساتھ تدریس کرنا اور اس سے تنخواہ وصول کرنا کیسا ہے؟      

جواب

مہتمم مدرسہ کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے،لوگ مدرسہ اور طلبائے کرام کے نام پرجو صدقات و خیرات دیا کرتے ہیں تویہ اس کے پاس امانت ہوتاہے، اس لیے مدرسہ کے مہتمم اور منتظم کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کا باقاعدہ حساب رکھےاورمدرسہ کی رقم ضروریات مدرسہ میں ہی استعمال کرے اور اس میں خیانت سےبچے ۔تاہم استاذ اجیر خاص کے حکم میں ہوتاہے،جو متعین مدت میں اپنے آپ کومستاجر کو حوالہ کر کے اجرت کا مستحق ہوتاہے۔اس لیے مہتمم کی مالی بے احتیاطی کی وجہ سے مدرسہ میں تدریس کرنا ناجائز نہیں ہو جاتا۔

 

عن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنارسول الله صلى الله عليه وسلم إلاقال:لاإيمان لمن لاأمانة له ولادين لمن لاعهدله. (مسنداحمد،رقم الحديث،12386،ج:19،ص:375)

والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة. (الهداية في شرح بداية المبتدي،کتاب الاجارۃ، ج:3،ص: 243)


فتویٰ نمبر : 4127/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں