بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حقوق زوجیت ادانہ کرنے کی صورت میں بیوی کامطالبہ طلاق


سوال

ایک خاوند چھ سال سے ہمبستری پر قدرت کے باوجود بیوی سے ہمبستری اور کسی قسم کا کوئی تعلق قائم نہیں کر رہا کیا ایسی صورت میں عورت عدالت سے طلاق لے سکتی ہے؟

جواب

واضح رہےکہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہو توبہتر طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے اہلِ خانہ جمع ہو کر ان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں۔ تاہم اگرمیاں بیوی کے درمیان باہم ایسی  ناچاقیاں ہوں جن کی وجہ  سے اکٹھے رہنا مشکل ہواور باہم اتفاق کی کوئی صورت نہ ہو،توایسی صورت میں عورت شوہرکوطلاق یا خلع پرراضی کرکےخودکوچھڑاسکتی ہے،لیکن شریعت میں خلع دینے کا حق صرف شوہر کو حاصل ہے، اس لیے کوئی شخص یا کوئی ادارہ کسی کی بیوی کو صرف نفرت اور بیزاری کی بنا پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کر سکتا۔ تاہم اگر شوہر متعنت ہو یعنی بیوی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتا ہو، اور اس کے حقوق ادا نہ کرتا ہو، نہ ہی طلاق یا خلع دیتا ہو، تو عورت عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتی ہے، پھر عدالت اگر پوری تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ شوہر واقعی متعنت ہے بیوی کی حقوق ادانہیں کرتااوراس کو آزاد بھی نہیں کرتا، تو عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر سکتی ہے، اس کے بعد بیوی مطلقہ شمار ہوگی اور عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کر سکے گی۔

صورت مسئولہ میں اگر واقعی شوہرقدرت کے باوجودبیوی کی حقوق زوجیت ادانہیں کرتااورنہ طلاق اورخلع پرراضی ہوتوبیوی عدالت کےذریعے طلاق  لے سکتی ہے۔

 

والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص: 173)

قال الشبرخيطى في هذا المحل بشرط أن تدوم النفقة لكل زوجة الأسير ومفقود أرض الشرك وإلا فلهما الطلاق وإذا أثبت لهما الطلاق بذلك فلیثبت لهما إذا خشيتا الزنا بالأولى،لأن ضرر ترك الوطء أشد من ضرر عدم النفقة، ألا ترى أن إسقاط النفقة يلزمها،وإسقاطها حقها في الوطء لها و لها أن ترجع فيه،وأيضا النفقة يمكن تحصيلها بنحو تسلف أوسؤال بخلاف الوطء. (الحيلةالناجزة،ص:135/136)


فتویٰ نمبر : 7473/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں