بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی بجلی سے موبائل فون چارج کروانا


سوال

ضرورت کے وقت مسجد کی بجلی سے مسجد میں موبائل فون چارج کروانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو چیز وقف کی جاتی ہے، اس کو ان جگہوں میں خرچ کیا جائے گا، جن کو وقف کرنے والوں نے متعین کیا ہو، یا اس میں خرچ کرنے کی اجازت دی ہو، اور اجازت جس طرح صراحۃ ہوتی ہے، اسی طرح دلالۃ بھی ہوسکتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ عام طور پر مسجد میں چندہ دینے والے مسجد کی ضروریات کے ساتھ دیگر معمولی نوعیت کے مصارف بھی ملحوظ رکھتے ہیں، گویا ان کی طرف سے اس کی دلالۃ اجازت ہوتی ہے، اس لیے ضرورت پڑنے پر مسجد کی بجلی سے موبائل فون چارج کروانے کی گنجائش ہوگی، تاہم اگر مسجد کے انتظامیہ والے اس سے صراحتامنع کرے تو پھر اس سے اجتناب ضروری ہوگا۔

 

والإذن دلالة بمنزلة الإذن إفصاحا كما في شرب ماء السقاية وكمن نصب القدر على الكانون وجعل فيه اللحم وأوقد النار تحته فجاء إنسان وطبخه لم يكن ضامنا لوجود الإذن دلالة. (المبسوط للسرخسي، کتاب الحج، ج:4، ص:160)

 قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوقف، ج:6، ص:649)


فتویٰ نمبر : 6717/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں