بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بینک کے لیے کرایہ پر جگہ دینا


سوال

ہم نے بینک کے لیے جگہ دی ہے جس پر انہوں نے بلڈنگ بنا يا ہےاور ہمیں ماہانہ کرایہ دیتے ہیں، تو کیا ہمارے لیے یہ کرایہ لینا جائز ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔

جواب

شریعت نے مالک کو اپنی مملوکہ چیز اجارے پر دینے کا حق دے رکھا ہے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے شرعی حدود پامال نہ ہوں۔

موجودہ دور میں جو روایتی سودی بینک ہیں، ان کو بلڈنگ کے لیے جگہ دینا جائز نہیں۔ اس لیے کہ یہ گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ اس سے احترازلازم ہے۔ البتہ جو بینک اسلامی اصولوں کےمطابق، اورمستند علمائےکرام کی نگرانی میں کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

قال الله تعالى:﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ الۡعِقَابِ﴾ (سورةالمائدة، الآية:2)

وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ يَأْمُرُ تَعَالَى عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْمُعَاوَنَةِ عَلَى فِعْلِ الْخَيْرَاتِ، وَهُوَ الْبَرُّ، وَتَرْكِ الْمُنْكِرَاتِ وَهُوَ التَّقْوَى، وَيَنْهَاهُمْ عَنِ التناصر على الباطل. (تفسیر ابن کثیر، سورةالمائدة، الآية:2، ج:3، ص:10)

وإجارة ‌بيت ‌ليتخذه ‌بيت ‌نار ‌أو ‌بيعة ‌أو ‌كنيسة ‌أو ‌يباع ‌فيه ‌خمر ‌بالسواد) ‌أي ‌جاز ‌إجارة ‌البيت ‌ليتخذه ‌معبدا ‌للكفار والمراد ببيت النار معبد المجوس، وهذا عند أبي حنيفةؒ، وقالا لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية. (تبیین الحقائق، کتاب الکراهيه، فصل فى البيع، ج:6، ص:29)

لا ‌تصح ‌الإجارة ‌. . . لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مطلب في الإستئجار على الطاعات، ج:6، ص:55)


فتویٰ نمبر : 4128/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں