بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

متصل دیہاتوں میں احکام سفر کا اعتبار


سوال

اگر چند گاؤں اس طرح واقع ہوں کہ ان کی آبادی ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں، لیکن عرف میں ہر ایک الگ گاؤں شمار ہوتا ہو اور ان کی حدود بھی الگ الگ متعین ہوں۔ تو اگرکوئی شخص  پہلے گاؤں سے سفر شروع کرے، تو احکام سفر کے لیے اس کے گاؤں کی حدود معتبر ہوں گے یا اس سے متصل دوسرےاور تیسرے گاؤں کی حدود سے نکلنا بھی ضروری ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ سفر کے احکام کے سلسلے میں اپنے  وطن کی حدود سے نکلنا معتبر ہوگا۔ لہذا اگر کوئی شہری ہو تو شہر کے حدود سے اور اگر وہ گاؤں میں ہو تو گاوں کے حدود سے نکلنا معتبر ہوگا ۔

صورتِ مسئولہ  میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق، اگر چہ  چند گاؤں کی آبادیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں تاہم اگر واقعی ان کے حدود الگ الگ متعین ہوں اور عرف میں بھی ہر ایک مستقل گاؤں شمار ہوتا ہو تو ایسی صورت میں احکام سفر کے اعتبار سے  صرف اپنے گاؤں سے نکلنا کافی ہوگا،اس سے متصل دوسر ےیا تیسرے گاؤں کی حدود سے نکلنا ضروری نہ ہوگا۔

 

(قوله من خرج من عمارة موضع إقامته) وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر،ج2،ص:121)


فتویٰ نمبر : 11018/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں