بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

''تو آزاد ہے'' چارمرتبہ کہنا


سوال

جھگڑے کی حالت میں میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ مجھے آزاد کرو تو میں نے چار مرتبہ اسے کہا کہ'' تو آزاد ہے'' مذکورہ الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ ہم دوبارہ آپس میں بسنا چاہتے ہیں اس کی کوئی صورت بتلائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ ''تو آزاد ہے''تو یہ اگر چہ کنائی الفاظ ہیں تاہم چونکہ ہمارے عرف میں یہ الفاظ طلاق ہی کے لیے استعمال کیے جاتے  ہیں  اس وجہ سے فقہاء کرام  نے اس کو طلاق صریحی شمار کرکے نیت کے بغیر بھی اس سے وقوع طلاق کا قول کیا ہے۔

لہذا صو رت مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی کو چار مرتبہ''تو آزاد ہے'' کہنے سے بیوی پر تین طلاقیں واقع  ہو گئیں اور وہ اپنے شوہر پر  مطلقہ مغلظہ  ہوکر حرام ہوگئی ہے۔ تاہم طلا ق شدہ عورت اگر عدت کے بعداپنی مرضی سے  دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور وہ شخص اس عورت سے صحبت کرے، اور پھر اپنی مرضی سے طلاق دیدے، یا فوت ہوجائے تو پھرعدت گزار کر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔

 

فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، ج:3، ص:299)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.( الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الطلاق، ج:2، ص:257)


فتویٰ نمبر : 7469/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں