بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فارم ب، میں باپ کی جگہ چچا اور ماں کی جگہ خالہ کا نام لکھنا


سوال

کیا فارم'' ب'' یا دیگر کاغذات میں خاوند کا بھتیجا اور بیوی کا بھانجا اس رشتہ کے وجہ سے اپنا بیٹا ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ کیا شریعت کے رو سے یہ جائز ہے؟ جس طرح قرآن مجید میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے آباء و اجداد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام  کا ذکر ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی  نسبت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف  جو عبداللہ بن زبیر کی خالہ تھیں۔

جواب

کسی شخص کا اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرنا شرعاً   منع ہے، اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، کیونکہ اس سے نسب کے تحفظ، وراثت کے شرعی احکام، اور محرمات کے تعین جیسے اہم مسائل میں خلط ملط اور اشتباہ پیدا ہوتا ہے، نیز یہ کذب بیانی اور جھوٹ بھی ہے۔

لہذا  صورت مسئولہ میں خاوند کے بھتیجے اور بیوی کے بھانجے کو  فارم ''ب '' یا دیگر کاغذات میں   اپنا بیٹا ظاہر کرنا جائز نہیں،  کیونکہ یہ عمل جھوٹ پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ اس ممانعت کے زمرے میں بھی آتا ہے جس میں غیر کو والد ظاہر کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔   جہاں تک حضرت یعقوب علیہ السلام کے تذکرے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آباء و اجداد میں شامل کرنے  یا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف نسبت کرنے کا تعلق ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کی نسبی حقیقت تبدیل کر دی گئی تھی، بلکہ یہ عربی زبان کے اس محاورے اور اسلوب کے مطابق تھا جس میں چچا کو  مجازاً باپ   اور خالہ کومجازاً  ماں کہہ دیا  جاتا ہے،   لیکن اس سے حقیقت کو چھپایا نہیں  جاتا۔ جبکہ  صورت مسئولہ میں  جب فارم ب میں غیر والد کو والد کے طور پر درج کیا جائے تو اس سے سرکاری ریکارڈ  میں حقیقت کو تبدیل کرکے اصل حقائق  کو چھپایا جاتا ہے ۔ اس لئے ان مثالوں کو دلیل بنانا درست نہیں۔  

 

عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام.  فذكرته لأبي بكرة فقال: وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم. (صحيح البخاري،  ج:2، ص:1001)

 {قالوا نعبد إلهك وإله آبائك إبراهيم وإسماعيل وإسحاق} وكان إسماعيل عما لهم والعرب تسمي العم أبا كما تسمي الخالة أما قال النبي صلى الله عليه وسلم: "عم الرجل صنو أبيه"وقال في عمه   العباس: "ردوا علي أبي فإني أخشى أن تفعل به قريش ما فعلت ثقيف بعروة بن مسعود"وذلك أنهم قتلوه. (تفسير البغوي ،  ج:1، ص:119)

{فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها لكي لا يكون على المؤمنين حرج في أزواج أدعيائهم} [الأحزاب: 37]. ثم أمر الله سبحانه بدعائهم إلى آبائهم، وجعل الجناح في دعائهم بأب التبني، إلا أن يكون على وجه الخطأ، أو يقول الرجل للآخر: يا بني! على وجه اللطف والشفقة، فقال تعالى: {ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله} [الأحزاب: 5]. وكما حرم الله تعالى أن يتبنى من ليس بولد له، حرم على المرء أن ينتسب لغير أبيه. روى واثلة بن الأسقع -رضي الله تعالى عنه-: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن أفرى الفرى من قولني ما لم أقل، ومن أرى عينيه ما لم تر، ومن ادعى إلى غير أبيه"۔ (تيسير البيان لأحكام القرآن، 4/ 106)

ويعلم من الآية أنه لا يجوز انتساب الشخص إلى غير أبيه، وعد ذلك بعضهم من الكبائر لما أخرج الشيخان، وأبو داود عن سعد بن أبي وقاص أن النبي صلّى الله تعالى عليه وسلم قال: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام. وأخرج الشيخان أيضا من ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله تعالى والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله تعالى منه صرفا ولا عدلا وأخرجا أيضا ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلم إلّا كفر. (تفسير الألوسي روح المعاني 11/ 147)

أم المؤمنين عائشة بنت أبي بكر الصديق وزوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأحب أزواجه إليه، المبرأة من فوق سبع سماوات رضي الله عنها، وعن أبيها. وأمها هي أم رومان بنت عامر بن عويمر الكنانية، تكنى عائشة بأم عبد الله، قيل كناها بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم بابن أختها عبد الله بن الزبير۔   (البداية والنهاية 8/ 91)


فتویٰ نمبر : 7470/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں