بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجرت نہ ملنے کی صورت میں کسی اور طریقے سے اپنا حق وصول کرنا


سوال

میں ڈرائیور ہوں میرے ساتھ کمپنی والوں نے چالیس ہزار ماہانہ تنخواہ پر بات کی، مہینے کے اختتام پرمجھے پینتیس ہزار تنخواہ دے دی ،اور ابھی کہتے ہیں کہ اگر اسی پینتیس ہزار پر ہمارے ساتھ کام کرتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ ہم کسی اور ڈرائیور کا بندوبست کریں گےتو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں پیٹرول ڈالنے کی مد میں غلط بیانی کرکے تنخواہ پوری کروں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کا کسی پر حق ثابت ہواور وہ اسے ادا نہ کر رہا ہو،تو وہ بقدر حق کسی مناسب طریقے سے اپنا حق وصول کر سکتا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتًا کمپنی والوں نے سائل کے ساتھ چالیس ہزار ماہانہ تنخواہ پر بات کی تھی اور مہینے کے اختتام پر اس کو پینتیس ہزار دیئے تو سائل کے لئے بہتر صورت یہ ہے کہ وہ اپنے باقی پیسوں کا مطالبہ کرے، اگر اس کے باوجود کمپنی والے باقی پیسے ادا نہ کریں تو سائل کے لئے اس مہینے کی باقی رقم پٹرول وغیرہ کی مد میں وصول کرنے کی گنجائش ہے، تاہم آئندہ وہ پینتیس ہزار پر راضی ہوا ہے اس وجہ سے آئندہ مہینوں کی تنخواہ پینتیس ہزار ہی اس کا حق ہوگا۔ زائد وصولی کی گنجائش نہ ہوگی ۔

 

 (قوله ‌وأطلق ‌الشافعي ‌أخذ ‌خلاف ‌الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق .(رد المحتار على الدر المختار،كتاب السرقة،ج:4،ص:95)


فتویٰ نمبر : 6721/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں