بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوتیلے بیٹوں کا میراث میں حصہ مانگنا


سوال

میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں، اور دونوں بیویوں سے اولاد ہے۔ کچھ وقت پہلے میری اپنی نانی وفات پا گئ جس کی میراث سے میری والدہ کو حصہ ملا ہے اور میری ماں ابھی زندہ ہے، لیکن اس دوران ہمارے سوتیلے بھائی(جو دوسری  ماں کی اولاد ہے) ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کی نانی سے جو حصہ آپ کی والدہ کو مل رہا ہے اس میں سے ہمیں بھی دیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں میراث کا حق صرف انہی افراد کو حاصل ہوتا ہے جو میت کے انتقال کے وقت اس کے شرعی وارث ہوں یعنی جنہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے وارث قرار دیا ہے۔

صورت مسئولہ میں سائل کی نانی کے انتقال کے بعد اس کی میراث اس کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی، چنانچہ سائل کی والدہ اگر زندہ ہو تو بیٹی ہونے کی حیثیت سے اس کو بھی اپنا مقررہ حصہ ملے گا تاہم وہ حصہ اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگا۔ اس میں نہ تو اس کی اپنی اولاد کا کوئی حق بنتا ہے اور نہ سوتیلی اولاد کا۔

 

والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية وهو مولى العتاقة، ثم عصبة مولى العتاقة ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام ثم مولى الموالاة ثم المقر له بالنسب على الغير بحيث لم يثبت نسبه بإقراره من ذلك الغير إذا مات المقر مصرا على إقراره، كما لو أقر بأخ أو أخت وما أشبه ذلك ثم الموصى له بجميع المال ثم بيت المال، كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:447)

وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض، ج:6، ص:758)


فتویٰ نمبر : 3839/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں