بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

استعمال شدہ پانی کی تحلیل و تطہیر


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل بیرون ممالک میں استعمال شدہ پانی مشین وغیرہ کے ذریعے فلٹر کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے، اور پھر لوگ اسے پینے، وضو اور غسل وغیرہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تو کیا اس فلٹر شدہ پانی سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ روئے زمین پر پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو تمام زندہ مخلوق، انسان، حیوان، چرند، پرند، کی حیات کے لیے لازمی اور ضروری ہے۔ آج کل بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کااستعمال دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن چونکہ اس زمین پرمیٹھے پانی کی مقدار کم ہے، اس لیے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ تحلیل وتطہیر کے عمل سے گزار کر استعمال کے قابل بنایا جائے۔ شرعی اعتبار سے جب پانی فلٹر کے ذریعے اس طرح پاک کیا جائے کہ اس کے تینوں اوصاف(رنگ، بو، ذائقہ) پاک پانی جیسے ہو جائیں تو اس کا حکم بھی بدل جائےگا، جیسا کہ کثیر مقدار میں پاک پانی کی نجاست کا حکم اوصاف کے بدلنے سے لگایا جاتاہے۔ اسی طرح کثیر مقدارمیں نجس پانی کی پاکی بھی اوصاف کے بدلنے سے ہوسکتی ہے۔

لہذا فلٹر شدہ پانی کے اوصاف ثلاثہ(رنگ، بو، ذائقہ) اگر عام پاک پانی جیسے ہوچکے ہوں  تو اس پانی سے غسل یا وضو وغیرہ کرنا جائز ہے، تاہم جہاں کہیں پانی وافر مقدار میں موجود ہو، تو وہاں پر اس قسم کا فلٹر شدہ پانی پینے اور طہارت کے لیے استعمال نہ کرنا ہی احتیاط ہے، کیونکہ اس کے استعمال میں بہر حال طبعی کراہت ہوتی ہے۔ اور جہاں پر پانی کی کمی کی  شکایت ہو، وہاں طہارت یا پینے کے لئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

عن أبي سعيد الخدري، قال: قيل: يا رسول الله، أتتوضأ من بئر بضاعة وهي بئر يلقى فيها الحيض ولحوم الكلاب والنتن؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الماء طهور لا ينجسه شيء. (سنن الترمذي، باب ما جاء أن الماء لا ينجسه شيء، ج:1، ص:108)

"الماء طهور لا ينجسه شيء "كما زعمتم وأغير في التعبير شيئاً مع إبقاء المراد أي الماء طهور لا يبقى نجساً أبداً بحيث لا يكون لطهارته سبيل، فإن هذا التعبير أقرب إلى لفظ الحديث. (العرف الشذي شرح سنن الترمذي، باب ما جاء أن الماء طهور لا ينجسه شيء، ج:1، ص:97)

(الفصل الأول في تطهير الأنجاس) ما يطهر به النجس عشرة: منها الغسل يجوز تطهير النجاسة بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد ونحوه مما إذا عصر انعصر. كذا في الهداية. ومنها الاستحالة تخلل الخمر في خابية جديدة طهرت بالاتفاق. كذا في القنية.(الفتاوى الهندية، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج:1، ص:41،44)


فتویٰ نمبر : 11017/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں