بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا


سوال

کیا سنی لڑکی شیعہ لڑکے سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

 

جواب

فقہائے کرامؒ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شیعہ قرآن پاک میں تحریف کے قائل ہوں یا حضرت علی رضی  اللہ عنہ کو معبود مانتے ہوں، یا حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے منکر ہوں ،یا جبرئیل علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ ان  سے وحی  پہنچانے میں غلطی ہو گئی یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہوں ، یا اس کے علاوہ کوئی اور کفریہ عقیدہ رکھتے ہوں وہ اسلام  سے خارج ہیں اس لیے ايسے شیعہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں البتہ وہ شیعہ جس کے عقائد کفر کی حد تک نہ پہنچےہوں،انہیں کافر نہیں کہا جا سکتا اور ایسے شیعہ سے نکاح کی گنجائش ہے تاہم احتیاط اس میں ہے کہ ان سے بھی نکاح نہ کیا جائے۔

صورت مسئولہ میں اگرکوئی شیعہ مذكوره بالا کفریہ عقائد میں  سے کوئی عقیدہ رکھتا ہویا اس کے علاوہ کوئی اور کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو  سنی لڑکی کا اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔ اور اگر کفریہ عقائد میں سے کوئی عقیدہ نہ رکھتا  ہو تو سنی لڑکی کے ساتھ اس کا نکاح  جائز ہےتاہم نکاح کے مقاصد میں سے دونوں خاندانوں کی ہم آہنگی وموافقت بھی ہے اور ایسے رشتوں میں چونکہ نظریاتی اختلاف  کی وجہ سے ہم آہنگی اور موافقت مشکل ہوتی ہے،علاوہ ازیں آج کل  نظریاتی لحاظ سے اہل ِتشیع کی تمیز بھی مشکل ہے اس لیے بہرحال شیعوں کے ساتھ نکاح سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر ؛ لقوله تعالى: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر ؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه ، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل : { أولئك يدعون إلى النار } لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر ، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار ؛ لأن الكفر يوجب النار ، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما ، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة ، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة  أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي ؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى : { ولن يجعلﷲ للكافرين على المؤمنين سبيلا } فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل ، وهذا لا يجوز.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة، ج:2، ص:271)

نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة رضي الله تعالى عنها أو أنكر صحبة الصديق أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن ۔ ۔ ۔  وأما الرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب مهم في حكم سب الشيخين، ج:6، ص:378)

ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما  فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة لقوله تعالى { ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن } ويجوز أن ينكح الكتابية لقوله عز وجل{والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم} والفرق أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب النکاح، فصل في شرط أن يكون للزوجين، ج:3، ص458)

ومنها أن يكون للزوجين ملة يقران عليها.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب النکاح، فصل في شرط أن يكون للزوجين، ج:3، ص458)


فتویٰ نمبر : 7466/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں