بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسطوں کے کاروبار کا حکم


سوال

زید مختلف اشیاء کو قسطوں پر فروخت کرنے کا کاروبار کرتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ فریج ،اے سی ،رکشہ، موبائل، گهریلو سامان ،تعمیراتی ميٹريل، الغرض مختلف قیمتی اشیاء کو نقد قیمت سے چالیس فیصد اضافے کے ساتھ ماہانہ دس ہزار روپے قسط پر فروخت کرتا ہے۔ جتنی رقم خریدار ایڈوانس ادا کرے، وہ بھی قسطوں میں شمار کی جاتی ہے۔مثلاً ایک لاکھ روپے نقد قیمت والی چیز قسطوں پر ایک لاکھ چالیس ہزار روپے میں فروخت ہوگی۔ اب اگر خریدار چالیس ہزار روپے ایڈوانس ادا کر دے تو باقی صرف ایک لاکھ روپے قسطوں میں ادا کرے گا۔ نیز قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کوئی اضافی رقم وصول نہیں کی جاتی۔ باہمی رضامندی کے بعد گاہک سامان کو خود کسی دکاندار کے پاس پسند کرتا ہے، پھر زید اس سامان کو نقد قیمت پر خریدتا ہے، اور بعد ازاں اسی سامان کو گاہک کے ہاتھ چالیس فیصد اضافے کے ساتھ قسطوں پر فروخت کر دیتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اگر کاہک سامان پسند کرنے کے بعد خریدنے سے انکار کر دے تو زید بھی  سامان نہیں خریدتا۔ گویا زید اس شرط پر سامان خریدتا ہے کہ گاہک و ہی سامان اس سے چالیس فیصد اضافے کے ساتھ قسطوں پر خرید لے گا۔مذکوره طریقہ کاروبار شرعاً کیسا ہے ؟ آج کل ہمارے بازاروں میں یہ طریقہ بہت زیادہ رائج ہے۔ براہ کرم اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر دلائل کے ساتھ روشنی ڈال کر مفصل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہےکہ جس بیع میں بیچنے والاخریدار کو مبیع فی الحال دے،لیکن خریداراس چیز کی قیمت فی الحال ادانہ کرے،بلکہ وہ طے شدہ قسطوں میں اس کی قیمت اداکرے، بیع بالتقسیط کہلاتی ہے شرعی طور پر یہ معاملہ جائز ہے تاہم اس معاملہ کےصحیح ہونےکےلیےضروری ہےکہ عقد کرتے وقت مدتِ ادائیگی اورقیمت متعین ہو،اورادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ لاگونہ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق زید کا یہ طریقہ کار، بیع بالتقسیط کی ایک صورت ہے جس میں وہ گاہک کی پسند کردہ چیز خود نقداً خرید کر آگے گاہک کو قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچتا ہے، اس میں نقد کے مقابلے میں قسطوں کی قیمت زیادہ رکھنا (جیسے ایک لاکھ کی چیز ایک لاکھ چالیس ہزار میں بیچنا) اور قسط میں تاخیر پر کوئی اضافی جرمانہ وصول نہ کرنا شرعاً جائز ہے۔ اسی طرح اگر سودا درست طریقے سے منعقد ہو جائے تو ایڈوانس رقم کو  قیمت میں شمار کرنا بھی جائز ہے۔

 

قال: "ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة فباعه بربح مائة ولم يبين فعلم المشتري، فإن شاء رده، وإن شاء قبل"؛ لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن ‌لأجل ‌الأجل، والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة فصار كأنه اشترى شيئين وباع أحدهما مرابحة بثمنهما.(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، ج:3، ص:58)

قال: "‌ويجوز ‌البيع ‌بثمن ‌حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ [البقرة: 275]. (الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص :24)

البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح. ‌يلزم ‌أن ‌تكون ‌المدة ‌معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط. (شرح مجلة الأحكام، رقم المادة:245-246، ص:125)


فتویٰ نمبر : 4121/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں