بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کے ظلم و زیادتی کی بنا پر عدالت کا تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرنا


سوال

 2022 میں میری شادی ہوئی، شادی کے بعد میں شوہرکے ساتھ اچھا وقت گزاررہی تھی، لیکن وہ مجھے مارتا پیٹتا اور ظلم وتشدد کا نشانہ بناتا تھا، اور دیگر لڑکیوں میں دلچسپی رکھتا تھا، مجھے توجہ نہیں دیتا تھا، اس کے ظلم و تشدد کی بنا پر میں اپنے میکے چلی گئی، وہاں بھی اس نے میری دیکھ بھال کی طرف توجہ نہیں دی،تومیں نےاس کے خلاف ظلم و زیادتی اور دیکھ بھال نہ کرنے کی بنا پر عدالت میں تنسیخِ نکاح کے ذریعے خلع کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا، عدالت نے اس کو حاضر ہونے کے لیے سمن بھیجے، لیکن وہ حاضر نہ ہوا، اور عدالت  نے یکطرفہ طور پر میرے  لیے تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کی، اب یہ ڈگری شرعا معتبر ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی صورت ہویا شوہر بیوی پر ظلم کرتا ہو جس کی وجہ سے وقت گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے، لیکن  شریعت میں خلع دینے کا حق صرف شوہر کو حاصل ہے، اس لیے کوئی شخص یا کوئی ادارہ  کسی کی بیوی کو صرف نفرت اور بیزاری کی بنا پر  خلع کی ڈگری جاری  نہیں کر سکتا ۔ تاہم اگر  شوہر متعنت ہو یعنی  بیوی  کے ساتھ  ظلم  و زیادتی کرتا ہو، اور اس کے حقوق ادا نہ کرتا ہو، نہ ہی طلاق یا خلع دیتا ہو،  تو عورت عدالت میں مقدمہ دائر کرسکتی ہے ، پھرعدالت اگر پوری تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ شوہر واقعی متعنت ہے بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اس کو آزاد  بھی نہیں کرتا ، تو عدالت عورت کو تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کر سکتی ہے،  اس کے بعد بیوی مطلقہ شمار ہوگی اور عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکے گی۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی  سائلہ  کاشوہر اس کے ساتھ ظلم وزیادتی  اور تعنت کا مرتکب رہا ہواور پھر عدالت کے نوٹس ملنے کے باوجود حاضر نہ ہوا ہو، تو عدالت کی جاری کردہ تنسیخ ِ نکاح کی ڈگری نافذ ہوگی ، اور اس سے وہ مطلقہ شمار ہوگی، چنانچہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔

 

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق، ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقة الحال، فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه، قال محشيه: قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحآكم من غير تلوم. ( الحيلة الناجزة، ص:133)

والخلع ‌جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.(المبسوط للسرخسي، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173)


فتویٰ نمبر : 7463/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں