بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مجبوری کی وجہ سے رشوت دینا


سوال

میں ایک گورنمنٹ پرائمری  سکول میں ٹیچر ہوں ،معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہوں اس کے باوجود اس ادارے (ایجوکیشن) کے افسران نے میری چار مہینوں کی سیلری بند کی ہے جو تقریبا ً ایک لاکھ اسی ہزار(1،80000) روپے بنتی ہے، اسی ادارے کے بعض افسران یعنی کلرک وغیرہ ہم سے کچھ رقم کی وصولی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اتنی رقم دے دو تب ہم آپ کی سیلریز کو ریلیز کریں گے کیا ایسی صورت میں ہم جو پیسے دیتے ہیں یہ رشوت کے زمر ے میں آتا ہے یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ رشوت دے کر ناجائزاورغلط طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنا یا کسی صاحب حق کا حق چھیننا ایک عظیم جرم اور سخت گناہ ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی چیز کا حق دار ہواوررشوت کے بغیر اس کی وصولی ناممکن ہوتوایسی حالت میں کچھ رقم دے کر اپنے حق کو وصول کرنے کی گنجائش ہے، البتہ لینے والے کے حق میں یہ رشوت شمار ہوگا اور اس کے لئے لینا نا جائز اور حرام ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے لئے ضروری ہے کہ اپنی تنخواہوں کو پہلے رشوت کے بغیر حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے لیکن اگر کوشش کے باوجود بھی رشوت کے بغیر تنخواہیں حاصل نہ ہوں تو اپنے حق کے حصول کے لئے رشوت دینے کی گنجائش ہوگی لیکن لینے والے کے لئے رشوت لینا بہر حال حرام ہوگا۔

 

وفي المصباح الرشوة بكسر الراء ما يعطيه الشخص للحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على مايريد.(البحرالرائق،کتاب القضاء، ج6،ص:440)

اذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أو ماله، فهو حرام على الأخذ غير حرام على الدافع.(شرح المجلة لخالد الأتاسي،الكتاب السادس عشر في القضاء،ج:5،ص:40)

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه، والنبي ﷺكان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه... قال ابن عابدين :دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له.(ردالمحتار على الدر المختار،باب الاستبراء وغيره،ج:9،ص:607)


فتویٰ نمبر : 6714/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں