بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
امام بارگاہ میں نماز پڑھنا
سوال
اگر کسی مسلمان کا گھر شیعہ امام بارگاہ کے قریب ہو اور آس پاس اہلِ سنت کی مسجد موجود نہ ہو، تو کیا وہ شخص امام بارگاہ میں جا کر نماز ادا کر سکتا ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب
شریعتِ مطہرہ کے مطابق نماز کی شرائط میں سے ایک شرط نماز کی جگہ کا پاک ہونا ہے، اس لیے جو جگہ پاک ہو وہاں نماز ادا ہوجاتی ہے چاہے وہ کسی دوسرے مذہب والوں کا عبادت خانہ ہی کیوں نہ ہو۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرامام بارگاہ پاک ہو اور اس میں جانداروں کی تصاویر موجود نہ ہو ں تو وہاں انفرادی نماز پڑھنے سے ادا ہوجائے گی ۔ تاہم وہاں نماز پڑھنے کا معمول بنانا درست نہیں، کیونکہ ان کے باطل عقائد ونظریات سے متاثر ہونے کا قوی اندیشہ ہوگا۔اگر اہل سنت کی مسجد واقعتاً دور ہو جہاں جانا باعث مشقت ہو تو امام بار گاہ میں پڑھنے کی بجائے گھر میں پڑھ لیا کرے۔
قال النبي صلى الله عليه وسلم: جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا، وأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل. (صحيح البخاري، كتاب الصلوة، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم:جعلت لي الأرض مسجداوطهورا، ج:1، ص:62)
وقال عمر- رضي الله عنه- إنالاندخل كنائسكم من أجل التماثيل التي فيها الصورمطابقة هذا الأثر للترجمة من حيث إن عدم دخوله في كنائسهم لأجل الصور التي فيها، ولولا الصور وما كان يمتنع من الدخول، وعند الدخول لا تمنع الصلاة، فحينئذ صح فعل الصلاة في البيعة من غير كراهة إذا لم يكن فيها تماثيل، ومما يؤيد ذلك ما رواه ابن أبي شيبة في (مصنفه) عن سهل بن سعد عن حميد عن بكر قال: كتب إلى عمر، رضي الله تعالى عنه، من نجران أنهم لم يجدوا مكانا أنظف ولا أجود من بيعة فكتب انضحوها بماء وسدر وصلوا فيها.(عمدة القاري، باب الصلوة في البيعة، ج:4، ص:192)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں