بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ناجائزاشیا میں مضاربت سے حاصل شدہ منافع کا حکم


سوال

میں نے اپنے ایک رشتہ دار کو کپڑوں کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لیے 2 لاکھ روپے دیے تھے۔ ہمارے درمیان یہ طے پایا تھا کہ کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں 60 فیصد حصہ اس کا اور 40 فیصد حصہ میرا ہوگا۔ تقریباً چار ماہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس نے میرے دیے ہوئے سرمایہ کو کپڑوں کے کاروبار کے بجائے نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت میں استعمال کیا ہے۔یہ معلوم ہوتے ہی میں نے اس سے فوری طور پر اپنی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ میرے لیےان  پیسوں پر منافع لینا جائز ہے یا ناجائز ؟اور اس منافع کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

مضاربت کا اصول یہ ہے کہ سرمایہ مضارب کے پاس امانت ہوتا ہے، جب تک مضارب معاہدے کی پاسداری کرے۔ لیکن اگر مضارب ربّ المال کی جانب سے عائد کردہ کسی جائز شرط کی خلاف ورزی کرے تو اس صورت میں مضارب غاصب سمجھا جائے گا، اور ضامن قرار پائے گا۔ نیز اس تجارت سے حاصل ہونے والا منافع شرعاً جائز نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس ناجائز تجارت سے حاصل شدہ منافع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا واجب ہوگا۔

صورت  مسئولہ کے مطابق  اگر مضارب نے کپڑے  کی بجائےنشےکی چیزوں سے نفع کمایا ہو تومضارب اوررب المال دونوں کےلیےاس نفع کااستعمال کرنا  جائز نہیں، اگر کوئی منافع وصول کیے ہوں تو ان کو صدقہ کرنا ان کے ذمے واجب ہو گا ۔

 

إذا خرج المضارب عن مأذونيته وخالف الشرط يكون غاصبا وفي هذا الحال يعود الربح والخسارة في بيع وشراء المضارب عليه، وإذا تلف مال المضاربة يكون ضامنا.(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة، (المادة 1421) خرج المضارب عن مأذونيته وخالف الشرط، ج:3، ص:452)

(وأما) السنة، فما روي عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال: كان سيدنا العباس بن عبد المطلب إذا دفع المال مضاربة، اشترط على صاحبه أن لا يسلك به بحرا ولا ينزل به واديا، ولا يشتري به دابة ذات كبد رطبة، فإن فعل ذلك ضمن فبلغ شرطه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأجاز شرطه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب المضاربة، فصل في ركن عقد المضاربة، ج:6، ص:79)

لانہ اما غاصب او مستودع، وکل منہما استربح فیما فی یدہ لنفسہ، یکون ربحہ لہ لا للمالک لکن یملکہ ملکاً خبیثاً سبیلہ التصدق بہ علی الفقراء.(شرح المجلة،الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الاعيان المشتركة، المادة: 1090 ج:3، ص:29)


فتویٰ نمبر : 4120/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں