بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حالت نزع میں کسی مسلمان کی زبان پر کفریہ کلمات جاری ہونا


سوال

اگرکسی مسلمان کوحالت نزع کےوقت کوئی کلمہ کی تلقین کرےاوروہ اس وقت کہےکہ''میں اللہ کونہیں جانتااورنہ رسول کو''(نعوذ باللہ) توکیااس سے یہ مسلمان کافرہوجائےگا یانہیں؟ نیز اس کےاعمال ضائع ہوجائیں گےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی مسلمان ہوش وحواس کے قائم  ہوتے ہوئےاپنی زبان سےکفریہ کلمات بولےتواس سے وہ کافر ہوجاتاہےالبتہ اگرکوئی حالت نزع میں ہوتوچونکہ اس حالت کےبارے میں غالب گمان یہ ہوتاہےکہ نزع کی سختی کی وجہ سےاس کےہوش وحواس بحال نہ ہوں گےاس لئے اس وقت کےکلمات کفرسےایمان زائل ہونےکاحکم نہیں لگایا جائےگا اوراسے مسلمان ہی شمار کیاجائےگا اورمرنے کےبعد مسلمانوں جیسامعاملہ اس کےساتھ کیاجائےگا۔

 

قالوا: وإذا ظهر منه كلمات توجب الكفر لا يحكم بكفره ويعامل معاملة موتى المسلمين حملا على أنه في حال زوال عقله.(فتح القديرعلى الهداية، ج:2، ص:105)

وما ظهر منه من كلمات كفرية يغتفر في حقه ويعامل معاملة موتى المسلمين) حملا على أنه في حال زوال عقله، ولذا اختار بعضهم زوال عقله قبل موته.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار،ص:116)

قالوا وإذا ظهرت من المحتضر كلمات توجب الكفر لا يحكم بكفره ويعامل معاملة موتى المسلمين.( الفتاوى الهندية، ج:1، ص:157)


فتویٰ نمبر : 6713/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں