بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میت سےمصنوعی اعضاء نکالنا


سوال

میت سے مصنوعی اعضاء کا نکالنا جائزہے يا نہیں؟ خاص کرجب وہ اعضاء قیمتی ہوں ؟ کیا اس سے میت کی بےادبی اوربےحرمتی تونہیں ہوگی؟

 

جواب

اسلام نےمیت کی تعظیم اوراکرام کاحکم دیا ہےاوراس کی بےحرمتی کرنےسے منع کیاہے لیکن اگرکسی میت کےجسم میں مصنوعی عضولگا ہواورقیمتی بھی ہوتواگر میت کےبدن سے آسانی سے بغیرچیرپھاڑکےاسےنکلاجا سکتا ہواوراس کےنکالنےسے میت کامثلہ نہ ہوتا ہو تونکالنا جائزہےلیکن اگروہ کم قیمت ہو یاکسی دوسرے کےلئے استعمال نہ ہوسکتا ہو یا اس کے نکالنے کے لیے میت کامثلہ كرنا پڑے تو میت کے احترام کے پیشِ نظراسے نکالنا ناجائزہوگا۔

 

ينزع عنه السلاح والجلود والفرو والحشو والخف والقلنسوة، وكلما ليس من جنس الكفن.( المحيط البرهاني، ج:2، ص:170)

(قوله: ولو بلع مال غيره) أي ولا مال له كما في الفتح وشرح المنية، ومفهومه أنه لو ترك مالا يضمن ما بلعه لا يشق اتفاقا (قوله: والأولى نعم) لأنه وإن كان حرمة الآدمي أعلى من صيانة المال لكنه أزال احترامه بتعديه كما في الفتح، ومفاده أنه لو سقط في جوفه بلا تعد لا يشق اتفاقا.( رد المحتارمع الدر المختار، ج:2، ص:238)


فتویٰ نمبر : 11015/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں