بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نمازِعشاء شفق احمرغائب ہونےکے بعد اور نقشہ سے چند منٹ پہلے پڑھنا


سوال

ہمارے علاقے میں مؤذنین اکثر عشاء کی نماز کے لیے اذان وقت سے پہلے دیتے ہیں ۔ مثلا اگرآج دائمی نقشہ نماز میں عشاء کا وقت 8:53 پر داخل ہورہا ہوتا ہے، توہمارےعلاقے میں اذانیں 8:30 یا8:35 سے شروع ہو جاتی ہیں ۔ کیا یہ اذان ہو جاتی ہے؟ وقت داخل ہونے کے بعد اس اذان کا اعادہ ضروری ہوگا یا نہیں؟ اس اذان کے ساتھ اگر گھروں میں لوگ نماز ادا کریں تو ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ بعض ائمہ کرام کہتے ہیں کہ صاحبین رحمہما اللہ کے قول کے مطابق تو وقت داخل ہوچکا ہے لہذا نماز درست ہے۔ کیا صاحبین رحمہما اللہ کے اس قول کو معمول بنانا درست ہے ؟ فتویٰ کس قول پر ہے؟

جواب

نماز عشاء کا وقت شفق  کے غروب  ہونے کے  بعد  شروع ہوتا ہے ، صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک شفق احمر کے غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نماز عشاء کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب شفق ابیض غائب ہوجائے۔ فقہائے کرام رحمہم اللہ کے نزدیک امام صاحب ؒ کا قول احوط ہے، البتہ اگر کسی نےصاحبین رحمہما اللہ کے قول کے مطابق عشاء کی نماز پڑھ لی تو یہ نماز بھی جائز ہوگی۔

صورت مسئولہ  کے مطابق اگر اذان 8:30 یا 8:35 پر دی جائے تواگرصاحبین رحمہما اللہ کے قول کے مطابق وقت داخل ہو چکا ہو تو اس صورت میں اذان کاا عادہ ضروری نہ ہوگا۔ اسی طرح اگراسی اذان کے ساتھ کسی نے نماز پڑھ لی تو نماز بھی ادا ہوجائے گی، تاہم امام صاحب ؒ کا قول احتیاط پر مبنی ہے اس لئے اس پر عمل کرنا چاہے۔ صاحبین رحمہما اللہ کے قول کو معمول بنانا احتیاط کے خلاف ہے ۔

 

ووقت المغرب منه إلى غيبوبة الشفق وهو الحمرة عندهما وبه يفتى. هكذا في شرح الوقاية وعند أبي حنيفة الشفق هو البياض الذي يلي الحمرة. هكذا في القدوري وقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفةرحمه الله أحوط؛ لأن الأصل في باب الصلاة أن لا يثبت فيها ركن ولا شرط إلا بما فيه يقين۔(الفتاوی الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الثاني في فضيلة الأوقات، ج:1، ص:51)

 في الاختيار الشفق البياض وهو مذهب أبي بكر الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة رضي الله تعالى عنهم ظهر أنه لا يفتى ويعمل إلا بقول الإمام الأعظم ولا يعدل عنه إلى قولهماأوقول أحدهما أو غيرهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة وإن صرح المشايخ بأن الفتوى على قولهما كما في هذه المسألة وفي السراج الوهاج فقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفة أحوط.(البحرالرائق شرح كنزالدقائق، وقت صلاة الظهر، ج:1، ص:258)


فتویٰ نمبر : 11020/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں