بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں کی متعدد مساجد میں نماز جمعہ قائم کرنا


سوال

ہمارے گاؤں کی آبادی تقریباً چھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور بنیادی ضروریات زندگی بھی دستیاب ہیں۔ گاؤں میں دس بڑی مساجد ہیں جن میں سے صرف دو میں جمعہ کی نماز پڑھی جاتی ہے، جبکہ عیدین کی نماز کثرت تعداد کی وجہ سے چار مسجدوں میں پڑھی جاتی ہے اب یہ دو مسجدیں جو جمعہ کی نماز کے لئے متعین ہیں گاؤں والوں کے لئے ناکافی ہیں اکثر مسجد میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے بعض لوگوں سے جماعت بھی فوت ہو جاتی ہےاور بعض لوگ مسافت کی دوری کی وجہ سے بھی جماعت سے محروم ہوتے ہیں۔ اب گاؤں والوں کا بہت اصرار اور مطالبہ ہے کہ کثرت تعداد کی بناء پر اور مذکورہ اعذار کو مد نظر رکھ کر ضرورت کی وجہ سے تیسری مسجد میں بھی جمعہ اور عیدین کی نماز شروع کی جائے تو کیا اب اس تیسری مسجد میں جمعہ اور عیدین کی نماز درست ہو سکتی یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے اگر کسی علاقے میں جمعہ کی تمام شرائط موجود ہوں تو وہ وہاں پر متعدد مساجد میں نماز جمعہ پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کہ نماز جمعہ میں امام کے علاوہ کم از کم تین افراد موجود ہوں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ گاؤں میں جمعہ کی شرائط موجود ہیں، تو اس گاؤں کی تمام مساجد میں جمعہ پڑھنا جائز ہے اس لئے تیسری مسجد میں جمعہ شروع کر سکتے ہیں۔

 

قال رحمه الله (‌وتؤدى ‌في ‌مصر في مواضع) أي تؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة، وهو قول أبي حنيفة ومحمد، وهو الأصح؛ لأن في الاجتماع في موضع واحد في مدينة كبيرة حرجا بينا، وهو مدفوع.(تبيين الحقائق، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:218)

 وتؤدي الجمعۃ في مصر واحد في مواضع کثیرۃ وھو قول ابي حنیفة ومحمد رحمھما اللہ وھو الاصح۔(الفتاوی الھندیۃ ج1 ص145)


فتویٰ نمبر : 11016/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں