بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹيكسی کو ماہانہ متعین کرایہ پر دینے کا حکم


سوال

 کیا ٹیکسی کو اس شرط پر اجارہ (کرایہ ) پر دینا جائز ہے کہ کرایہ دار ماہانہ متعین رقم ادا کرے ،خوا ہ  وہ ٹیکسی چلائے یا نہ چلائے،اور متعین رقم کے بقدر آمدنی حاصل کرے یا نہ کرے؟ کیا مذکورہ طریقہ پر اجارہ کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی چیز  متعین اجرت پر معلوم مدت کے لیے اجارہ پر دینا جائز ہے ۔ اسی طرح  جب عقدِ اجارہ صحیح ہو، اور مالک کرایہ دار کو وہ چیز حوالہ کر کے اس سے فائدہ اٹھانے پر قدرت دیدے، تو کرایہ دار اس چیز سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے،یا اسے کو ئی منافع حاصل ہوں یا نہ ہو  ں،بہر حال مدت مکمل ہونے پر مالک کو کرایہ ادا کرے گا۔

 لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق ٹیکسی اس شرط پراجارہ پر دینا جائز ہےکہ مستاجر ماہانہ متعین رقم ادا کرے گا چا ہے وہ ٹیکسی چلائے یانہ چلائے اورمتعین رقم  بقدرآمدنی حاصل کرے یا نہ کرے ۔

 

 إن من استأجر دابة يوما لأجل الركوب فحبسها المستأجر في منزله ولم يركبها حتى مضى اليوم فإن استأجرها للركوب في المصر يجب عليه الأجر لتمكنه من الاستيفاء في المكان الذي أضيف إليه العقد۔(الفتاوی الھندیة،كتاب الاجارة،الباب الثاني،ج:4،ص:413)

 إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.۔ (الفتاوی الھندیة،كتاب الاجارة،الباب الثاني،ج:4،ص:413)


فتویٰ نمبر : 4122/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں