بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مشائم نام رکھنا


سوال

ہم نے ایک بچی کے لیے مشائم نام رکھا ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس بچی کانام تبدیل کریں اس لئے کہ اس کا معنی ٹھیک نہیں ہے۔شریعت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ یہ نام رکھنا  ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے والدین کی ذمہ داری ہے کہ  اولاد کی پیدائش  کے بعد ان کیلئے اچھا نام تجویز کريں۔اچھے نام کے اچھے اثرات ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں بھی اس کی تاکید آئی ہے۔

 صورت مسئولہ میں مذکور نام "مشائم" مشیمۃ کی جمع ہے عربی لغت میں یہ بچہ کی اس جھلی کوکہا جاتا ہے جس میں بچہ پیدائش کے وقت لپٹا ہواہوتا ہے۔ اس نام  کو تبدیل کر کے اس کی جگہ کوئی دوسرا اچھانام رکھنا چاہیے۔

 

(عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم تدعون يوم القيامة باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم)۔ (سنن أبي داود ، كتاب الادب، باب في تغييرالاسماء، ج:7، ص: 303 ) 

المشیمة۔ بچہ کی جھلی جس میں بچہ پیدائش کے وقت لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ج مشیم و مشائم۔(المنجد،المادة:ش ي م،ص:456)


فتویٰ نمبر : 6712/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں