بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر معتادہ عورت کی مدتِ نفاس


سوال

اگر کسی عورت کا پہلی مرتبہ بچہ پیدا ہو جائے یعنی وہ غیر معتادہ ہو اور پندرہ دن کے بعد خون بند ہو جائے، دو دن بعد پھر خون آ جائے، تو یہ دو دن کے بعد والا خون نفاس کا ہو گا یا استحاضہ کا؟ نیز خون کے بند ہونے کے بعد غسل کیے بغیر شوہر سے ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح جن دنوں میں خون بند تھا، اس  میں پڑھی جانے والی نمازوں اور شوہر سے ہمبستری کا کیا حکم ہے؟

جواب

نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس (40) دن ہے، اگراسی دوران نفاس کا خون اقل مدتِ طہریعنی پندرہ (15) دن سے کم کے لیے بند ہوکر پھر شروع ہوجائے، تواس کا کوئی اعتبارنہیں ہوگا اور تمام ایام نفاس کے شمار ہوں گے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کو بچے کی ولادت کے بعد نفاس کا خون آنا شروع ہوجائے اور درمیان میں خون منقطع ہوکر دو دن بعد دوبارہ شروع ہوجائے، تو یہ سب ایام نفاس کے شمار ہوں گے، اسی طرح جب عورت مبتدئہ ہو اور نفاس کا خون بند ہو جائے، توغسل کرنے یا ایک نماز کا وقت گزرنے سے پہلے اس عورت کا اپنے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں۔ البتہ غسل کرنے کے بعد یا ایک نماز کا وقت گزر جانے کے بعد اس عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز ہو گا، لیکن مستحب یہ ہے کہ غسل کیے بغیر شوہر سے ازدواجی تعلق قائم نہ کرے۔ اسی طرح یہ عورت روزہ بھی رکھے گی اور نماز کو بھی آخری وقت تک استحباباً مؤخر کر کے پڑھے گی، لیکن اتنی تاخیر بھی نہ کرے کہ مکروہ وقت داخل ہو جائے۔ نیز نفاس کے ایام میں نماز پڑھنا اور شوہر سے ہمبستری کرنا ناجائز ہے لیکن چونکہ یہ عورت مبتدئہ تھی اور اپنے گمان کے مطابق نفاس سے پاک ہوچکی تھی اس لیے  یہ معذور سمجھی جائے گی۔

 

"رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه". "طب عن ثوبان". (كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، الفصل الثاني في احكام التوبة، رقم الحديث:10307 ج:4، ص:233)

وقال أبو يوسف و محمد رحمهماالله :إذا كان الطهر المتخلل بين الأربعين خمسة عشر فصاعدا يعتبر فاصلا بين الدمين ويجعل الأول نفاسا والثاني حيضا إن امكن، وإن كان أقل من خمسة عشر لايعتبر فاصلا بين الدمين ويجعل كالدم المتوالي، فأبويوسف سوى بين النفاس وبين الحيض فلم يجعل الطهر أقل من خمسة عشر فاصلا بين الدمين فيهما، ومحمد رحمه الله فرق بينهما فجعل الطهر أقل من خمسة عشر فاصلا بين الدمين ولم يجعل في الأربعين فاصلا. (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الطهارة، الفصل التاسع في الحيض، قسم آخر في الطهر المتخلل بين الأربعين في النفاس، ج:1، ص:539)

وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة أن ‌الطهر ‌المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لم يفصل وكثير من المتأخرين أفتوا بهذه الرواية؛ لأنها أسهل على المفتي والمستفتي. كذا في التبيين وهكذا في الزاهدي والأخذ بهذا أيسر كذا في الهداية وعليه استقر رأي الصدر الشهيد حسام الدين وبه يفتى. كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الثالث في الاستحاضة، ج:1، ص:37)

(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوباً بل ندباً. (وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطاً؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها.(قوله: إذا انقطع حيضها لأكثره) مثله النفاس. (ردالمحتار على الدرالمختار، باب الحيض، ج:1، ص:294)

فالطهر المتخلل فيه لا يفصل طال الطهر أو قصر حتى لو رأت ساعة دما وأربعين إلا ساعتين طهرا، ثم ساعة دما كان الأربعون كله نفاسا وعندهما إن لم يكن الطهر خمسة عشر يوما فكذلك وإن كان خمسة عشر يوما فصاعدا يكون الأول نفاسا والثاني حيضا إن أمكن، وإلا كان استحاضة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، باب الحيض، ج:1، ص:68)


فتویٰ نمبر : 11014/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں