بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بچے کا مدت رضاعت میں دودھ پی کر قے کرنا


سوال

ایک عورت نے ایک بچی کو دودھ پلایا ہے، لیکن دودھ پلاتے ہی فوراً بچی نے الٹی کی اور دودھ اپنی اصلی حالت میں واپس نکل گیا، تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ احناف کے نزدیک دو سال کی عمر ہونے سے پہلے، جب بچے کے حلق میں  کسی عورت کا دودھ اترجائے تو اس سے رشتۂ رضاعت ثابت ہو جاتا ہے، چاہے دودھ کم ہو یا زیادہ ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر دودھ مدت رضاعت میں حلق سے نیچے اترا ہو اور پھر بچے نے قے کی ہوتو رضاعت ثابت ہوگی۔

 

قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص:342)

(هو مص الرضيع من ثدي الآدمية في وقت مخصوص) أي وصول اللبن من ثدي المرأة إلى جوف الصغير من فمه أو أنفه في مدة الرضاع. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الرضاع، ج:3، ص:238)


فتویٰ نمبر : 7464/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں