بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایسی تسبیح پر ذکر کرنا جس كےبعض دانوں پر چاندی لگی ہوئی ہو


سوال

ایسی تسبیح جس کے سارے دانے، امام، مقتدی، لکڑی کے بنے ہوں، لیکن امام اور مقتدی پر ایک باریک چاندی کا تار معمولی سا گول لگایا گیا ہو، جس پر ذکر بھی نہیں پڑھا جاتا، کیا اس پر تسبیح پڑھنا جائز ہے؟تسبیح کی تصویر سوال کے ساتھ لف ہے۔

جواب

واضح رہے کہ استعمال کی جس چیز پر سونے چاندی کے نقوش یا بیل بوٹے بنا دیے گئے ہوں، جیسے: چاقو، تلوار، چمچ، گلاس، کرسی، چارپائی، زین اور لگام وغیرہ، تو ان کا استعمال تب جائز ہوگا جب ان کے استعمال کے وقت سونے چاندی والی جگہ منہ، ہاتھ یا دوسرے اعضا کو مس نہ کر رہی ہو۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق تسبیح کی تصویر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کرتے وقت اس چاندی سے ہاتھ ضرور لگے گا، اس لیے ایسے تسبیح پر ذکر کرنا جائز نہیں۔

 

يكره (الأكل بملعقة الفضة والذهب والاكتحال بميلهما) وما أشبه ذلك من الاستعمال كمكحلة ومرآة وقلم ودواة ونحوها. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحضر والإباحة، ج:6، ص:341)

 (كما لو جعله) أي التفضيض (في نصل سيف وسكين أو في قبضتهما أو لجام أو ركاب ولم يضع يده موضع الذهب والفضة) (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحضر والإباحة، ج:6، ص:344)

وحل الشرب من إناء مفضض والركوب على سرج مفضض والجلوس على كرسي مفضض ويتقي موضع الفضة(كنز الدقائق،كتاب الكراهية، ص:604)


فتویٰ نمبر : 6723/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں