بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
اسٹاک ایکسچینج كے باہر شیئرز کی خرید وفروخت
سوال
اگر کوئی آدمی سٹاک مارکیٹ میں اُسی کے طریقہ کار کے مطابق شیئرز خریدے ،لیکن بعد میں اِنہِیں شیئرز کا سودا شیئر مارکیٹ کے نظام سے باہر، صرف باہمی ایجاب و قبول کے ذریعہ کرے، اور اسٹاک ایکسچینج کے نظام کو اس معاملے میں استعمال نہ کیاجائے تواس طرح شیئر مارکیٹ کے نظام سے باہر محض باہمی ایجاب و قبول کے ذریعہ کی گئی فروخت شرعاً صحیح بیع کہلائے گی؟ اور کیا اس پر شرعی ایجاب و قبول کا اطلاق ہوگا، جبکہ شیئر مارکیٹ میں بیع کا معروف اور متعارف طریقہ ہے؟ اور ا س طرح قبضہ درست ہوگا یا نہیں؟ کہ مشتری اپنے شیئرز بائع کو اس طرح فروخت کرے، کہ فروختگی کے بعد بھی وہ شیئرز اصل مالک ہی کے ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں موجود رہیں ،بائع کے نام منتقل نہ ہوں۔ البتہ فروختگی کے بعد بائع کو ان اکاؤنٹس اور شیئرز میں تصرف کی اجازت دے دی گئی، چنانچہ جب بھی کسی شیئر کی خرید و فروخت مقصود ہوتی ہے توبائع بروکر کو فون کر کے ہدایات دیتا ہیں اور بروکر اصل اکاؤنٹ سے خرید و فروخت کر دیتا ہے۔ تاہم اکاؤنٹ بائع کے نام پر نہیں ہے، بلکہ اکاؤنٹ کا OTP، رجسٹرڈ موبائل نمبر، رجسٹرڈ بینک اکاؤنٹ،ای میل، لاگ اِن کی تفصیلات اور دیگر تمام قانونی اختیارات بدستور اصل اکاؤنٹ ہولڈرز ہی کے پاس ہیں، اور شیئرز بھی ان ہی کے نام پر آتے جاتے رہتے ہیں۔تو اس صورت میں قبضہ میں ضروری شرط(تخلیہ) کا تحقق ہوگا یا نہیں؟ محض تصرف کی اجازت دے دینے اور بروکر کے ذریعہ خرید و فروخت کر لینے سے شرعی قبضہ ثابت ہو جاتا ہے، یا شرعی قبضہ کے تحقق کے لیے شیئرز کا خریدار کے نام رجسٹرڈ یا منتقل ہونا ضروری ہے؟نیز یہ کہ ایسی کمپنی جو پچھلے پانچ چھ سال سے 95 فیصد سے زیادہ سودی قرض میں ملوث ہے اس کے شیئرز خریدنا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کمپنی شرکت کی ایک جدید قسم ہے،اور شیئرز کمپنی کےاثاثوں میں شرکت کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے کسی کمپنی کے شیئرز خریدنا اس کے حصے کو خریدنا ہے،اور شیئرز کی خرید وفروخت جس طرح اسٹاک مارکیٹ میں جائز ہے، اسی طرح اس کے باہر بھی جائز ہے،لیکن اس کے آگے بیچنے کے لیے ضروری ہے کہ بائع اس پر قبضہ کرے، اور شیئرز پر قبضہ کی صورت یہ ہے کہ وہ خریدنے والے کے ضمان میں آجائے، اور کمپنی کے پاس خریدنے والے کے نام رجسٹرڈ ہو جائے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر شیئرز کی بیع اسٹاک ایکسچینج کے باہر باہمی رضامندی سے ایجاب وقبول کے ذریعے کی جائے، تو یہ بیع صحیح شمار ہوگی، تاہم بائع کے لیے اس کا بیچنا اس وقت جائز ہوگا، جب وہ اس پر قبضہ کرے، یعنی شیئرز اس کے نام منتقل ہو جائے، محض تصرف کی اجازت دے دینے اور بروکر کے ذریعہ خرید و فروخت کر لینے سے شرعی قبضہ ثابت نہیں ہوگا،اور جو کمپنی ایسی ہوکہ اس کا اصل کاروبار تو حلال ہو، لیکن سودی قرضے میں ملوث ہو، تو اس کے شیئرز خریدنے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کے خلاف کمپنی کے سالانہ اجلاس میں آواز اٹھائی جائے، اور منافع تقسیم ہونے کے بعد حساب لگا کر آمدنی کا جتنا حصہ سود سے حاصل ہو اس کو بلا نیت ثواب فقرا پر صدقہ کیا جائے۔
حدثنا عمرو بن شعيب قال: حدثني أبي، عن أبيه - حتى ذكر عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك. (سنن الترمذي، أبواب البيوع، رقم الحديث:1234، ج:2، ص:515)
قال ومن اشترى شيئا فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه ولا يوليه أحدا ولا يشرك فيه. (المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع ، ج:13، ص:8)
شركة المساهمة:وهذه الشركة جائزة شرعا؛ لأنها شركة عنان، لقيامها على أساس التراضي، وكون مجلس الإدارة متصرفا في أمور الشركة بالوكالة عن الشركاء المساهمين، ولا مانع من تعدد الشركاء.(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي،ج:5،ص: 3975)
متى حصل تسليم المبيع صار المشتري قابضا له... تختلف كيفية التسليم باختلاف المبيع. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:264،265، ج:1، ص:252)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں